کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 189
حُرْمَۃُ الْمَدِیْنَۃِ الْمُنَوَّرَۃِ مدینہ منورہ کی حرمت کے مسائل مسئلہ 392: مدینہ منورہ بھی مکہ مکرمہ کی طرح حرمت والا ہے جس میں درخت کاٹنا یا شکار کرنا منع ہے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 385 کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ 393: مدینہ منورہ کا دوسرا نام ’’طابہ‘‘ ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم یَقُوْلُ (( اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی سَمَّی الْمَدِیْنَۃَ طَابَۃً )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام ’’طابہ‘‘ رکھا ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 394: مدینہ منورہ میں طاعون کی بیماری کبھی نہیں پھیلے گی اور نہ اس میں دجال داخل ہو سکے گا۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم (( عَلٰی اَنْقَابِ الْمَدِیْنَۃِ مَلاَئِکَۃٌ لاَّ یَدْخُلُہَا الطَّاعُوْنُ وَلاَ الدَّجَّالُ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں اس میں نہ کبھی طاعون پھیل سکتا ہے نہ دجال داخل ہو سکتا ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 395: مدینہ میں موت تک مستقل قیام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا [1] صحیح الجامع الصغیر ، للالبانی ، رقم الحدیث 3732. [2] کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب المساجد و مواضع الصلاۃ. [3] ابواب الحج ، باب ما جاء فی الصلاۃ بعد العصر وبعد الصبح لمن یطوف.