کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 186
بھگایا جائے نہ اس میں گری پڑی چیز اٹھائی جائے ہاں البتہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو اسے (مالک تک) پہنچائے اس کی (خودرو) سبز گھاس نہ کاٹی جائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر (کی اجازت دے دیجئے) کہ یہ لوگوں کے چولہوں (میں جلانے کے لئے) اور گھروں (میں چھتوں میں ڈالنے کے لئے) استعمال ہوتی ہے۔‘‘ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اس کی اجازت ہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 385: حرم مکہ کی حدود کا تعین حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حرم مدنی کی حدود کا تعین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ عَنْ رَافِعٍ بْنِ خَدِیْجٍص قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم (( اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ ں حَرَّمَ مَکَّۃَ وَاِنِّیْ اُحَرِّمُ مَا بَیْنَ لاَ بَتَیْہَا )) یُرِیْدُ الْمَدِیْنَۃِ ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں دونوں سیاہ پتھروں والے ٹیلوں کے درمیان والی جگہ یعنی مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حرم مکی کی جو حدود متعین فرمائیں وہ درج ذیل ہیں۔ شمال کی طرف مکہ مکرمہ سے چار میل (تنعیم تک) مشرق کی طرف مکہ مکرمہ سے تقریباً دس میل (جعرانہ تک) شمال مشرق کی طرف مکہ مکرمہ سے تقریباً نو میل (وادی نخلہ تک) مغرب کی طرف مکہ مکرمہ سے آٹھ میل حدیبیہ (نیا نام شمیسی) تک۔ حکومت نے علامت کے طور پر چاروں سمتوں میں مذکورہ مقامات پر سفید ستون بنائے ہوئے ہیں۔ مسئلہ 386: مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین شہر ہے۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ حَمْرَائِ الزُّہْدِیِّ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم وَاقِفًا عَلَی الْحَزْوَرَۃِ فَقَالَ (( وَاللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم نَّکِ لَخَیْرُ اَرْضِ اللّٰہِ وَاَحَبُّ اَرْضِ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم لَی اللّٰہِ وَلَوْلاَ اَنِّیْ اُخْرِجْتُ مِنْکِ مَا خَرَجْتُ )) ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ[2] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عدی حمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حزورہ کے اوپر کھڑے یہ فرماتے ہوئے دیکھا ہے ’’اللہ کی قسم! (اے مکہ!) تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ [1] کتاب الحج ، باب تحریم صید مکۃ و تحریم صیدہا.