کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 184
فرض حج ادا ہو جائے گا‘ خواہ فوت ہونے والا وصیت کرے یا نہ کرے۔ مسئلہ 381: مرد، عورت کی طرف سے حج ادا کر سکتا ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ امْرَأَۃَ مِنْ جُہَیْنَۃَ جَائَ تْ اِلَی النَّبِیِّا فَقَالَتْ: اِنَّ اُمِّیْ نَذَرَتْ اَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتّٰی مَاتَتْ اَفَاحُجُّ عَنْہَا ؟ قَالَ (( نَعَمْ حُجِّیْ عَنْہَا أَ رَاَیْتِ لَوْ کَانَ عَلَی اُمِّکِ دَیْنٌ أَکُنْتِ قَاضِیَتَہٗ اقْضُوْا اللّٰہَ فَاللّٰہُ اَحَقٌّ بِالْوَفَائِ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا’’میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی‘ لیکن مرنے سے قبل حج نہیں کر سکی‘ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ہاں! اس کی طرف سے حج کرو‘ ہاں! دیکھو اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا نہ کرتیں؟ پس اللہ کا قرض ادا کرو۔ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ اَمْرَاَۃً نَذَرَتْ اَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ فَاَتٰی اَخُوْہَا النَّبِیَّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم فَسَأَلُہٗ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ (( أَ رَاَیْتَ لَوْ کَانَ عَلٰی اُخْتِکَ دَیْنٌ اَکُنْتَ قَاضِیَتَہٗ ؟)) قَالَ: نَعَمْ ! قَالَ(( فَاقْضُوا اللّٰہَ فَہُوَ اَحَقُّ بِالْوَفَائِ )) رَوَاہُ النِّسَائِیُّ[2] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی‘ فوت ہوئی تو اس کا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسئلہ دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا ادا کرتا؟‘‘ اس نے کہا ’’ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تو پھر اللہ کا قرض ادا کرو اور اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔ اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب الحج ، باب العمرۃ عن رجل الذی لا یستطیع.