کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 172
ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ (( مَا مِنْ اَیَّامٍ اَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہٗ وَلاَ اَحَبُّ اِلَیْہِ مِنَ الْعَمَلِ فِیْہِنَّ مِنْ ہٰذِہِ الْاَیَّامِ الْعَشْرِ فَاکْثِرُوْا فِیْہِنَّ مِنَ التَّہْلِیْلِ وَالتَّکْبِیْرِ وَالتَّحْمِیْدِ )) رَوَاہُ اَحْمَدٌ[1] حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا کوئی اور دن نہیں۔ جس میں کئے گئے اعمال اللہ تعالیٰ کو (ان دنوں کے اعمال کے مقابلے میں) زیادہ محبوب ہوں۔ لہٰذا ان دنوں میں کثرت سے لاَ اِلٰہَ اِلاَّ للّٰہُ ‘ اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو۔‘‘ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایام تشریق میں درج ذیل الفاظ سے تکبیرو تہلیل فرمایا کرتے۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ (ابن ابی شیبہ) مسئلہ 346: 12 ذی الحجہ کو منیٰ سے واپس آنا ہو تو اسی روز13 ذی الحجہ کو رمی کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ 347: طواف وداع کے بعد رمی کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ 348: ایام تشریق کے دوران روزانہ نفلی طواف کرنا مستحب ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم کَانَ یَزُوْرُ الْبَیْتَ کُلَّ لَیْلَۃٍ مَادَامَ بِمِنًی ۔ رَوَاہُ الْبَیْہِقِیُّ[2] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ایام تشریق کے دوران) جب تک منیٰ میں رہے روزانہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے رہے۔ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 349: ایام تشریق کے دوران تمام نمازیں مسجد خیف میں ادا کرنا مستحب ہے۔ [1] کتاب الحج ، باب وجوب المبیت بمنی لیالی ایام التشریق. [2] مختصر صحیح مسلم ، لالبانی ، کتاب الصیام ، باب کراہیۃ الصیام ایام التشریق.