کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 168
طَـــــــوَافُ الزِّیَارَۃِ طواف زیارت کے مسائل مسئلہ 333: 10 ذی الحجہ کو قربانی کے بعد مکہ مکرمہ آکر طواف زیارت (یا طواف افاضہ) کرنا فرض ہے۔ مسئلہ 334: طواف زیارت کے بعد آب زمزم پینا مستحب ہے۔ عَنْ جَابِرٍ رضی اللّٰهُ عنہ فِیْ قِصَّۃِ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَالَ…اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم نْصَرَفَ اِلَی الْمَنْحَرِ ثُمَّ رَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم فَاَفَاضَ اِلَی الْبَیْتِ فَصَلّٰی بِمَکَّۃَ الظُّہْرَ فَاَتٰی بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَسْقُوْنَ عَلٰی زَمْزَمَ فَقَالَ (( اِنْزَعُوْا بَنِی عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَلَوْلاَ اَنْ یَغْلِبَکُمُ النَّاسُ عَلٰی سِقَایَتِکُمْ لَنَزَعْتُ مَعَکُمْ فَنَاوَلُوْہُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْہُ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حجۃ الوداع والی حدیث میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ تشریف لائے۔ اونٹ ذبح کئے پھر اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ تشریف لائے اور طواف افاضہ کیا۔ ظہر کی نماز مکہ میں ادا کی اس کے بعد بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جو لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا ’’اے بنو عبدالمطلب! خوب پانی نکالو (اور لوگوں کو پلاؤ) اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ (میرے پانی نکال کر پینے یا پلانے کے بعد) لوگ (خود پانی نکالنے کی سنت ادا کرنے کے لئے) تم سے ڈول زبردستی حاصل کر لیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر پانی نکالتا۔‘‘ تب بنی عبدالمطلب کے لوگوں نے پانی کا ایک ڈول (نکال کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: 1.کسی شرعی عذر کی وجہ سے10 ذی الحجہ کو طواف زیارت نہ کیا جاسکے تو13، 12، 11 ذی الحجہ تک کسی بھی دن کیا جا سکتا ہے۔اس تاخیر پر کوئی فدیہ یا دم نہیں2.طواف زیارت موخر کرنے کی صورت میں 12 یا 13 ذی الحجہ کو طواف زیارت اور طواف وداع دونوں کی نیت سے ایک ہی طواف کر لیا جائے تو کافی ہو گا۔ انشاء اللہ3.طواف زیارت چونکہ حج کا رکن ہے اس لئے ادا نہ کرنے پر اس کا کفارہ‘ دم یا فدیہ دینے سے اس کی تلافی نہیں ہوتی۔4.طواف زیارت کئے بغیر حائضہ کا اس نیت سے طائف‘ [1] کتاب الحج ، باب الحلق والتقصیر. [2] کتاب الحج ، باب استحباب الطیب قبل الاحرام.