کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 163
ذبح کیا جائے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 309: قربانی کے وقت جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرنا مستحب ہے۔ مسئلہ 310: قربانی سے قبل بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ کہنا مسنون ہے۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم ذَبَحَ یَوْمُ الْعِیْدِ کَبْشَیْنِ ثُمَّ قَالَ حِیْنَ وَجَّہْہُمَا اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ بِسْمِ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم للّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُّحَمَّدٍ وَّاُمَّتِہٖ۔رَوَاہُ ابْنُ خُزَیْمَۃَ[1] (صحیح) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے روز دو مینڈھے ذبح کئے۔ دونوں کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کر کے یہ آیت پڑھی میں نے اپنا رخ اس ہستی کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کوپیدا کیا اور میں ہر گز مشرکوں سے نہیں ہوں۔ (سورہ انعام‘ آیت نمبر 78)بے شک میری نماز اور میری قربانی میرا جینا اور مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں۔ (سورہ انعام‘ آیت 162، 163) (مذکورہ آیت تلاوت کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات ارشاد فرمائے) یا اللہ! یہ جانور تو نے ہی دیا تھا اور تیرے ہی نام پر میں نے اسے قربان کیا ہے۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت کی طرف سے۔ اسے ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: ایک صحیح حدیث میں یہ الفظ بھی ہیں (اللہ کے نام سے ذبح کر تا ہوں‘ یا اللہ اسے آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۔ (ابو داؤد‘ کتاب الاضاحی باب مایستحب من الضحایا) لہٰذا قربانی کرتے وقت اَلَلّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّاکے الفاظ کہنا بھی مسنون ہیں۔ مسئلہ 311: دوسرے سے قربانی کروانی جائز ہے لیکن خود کرنا افضل ہے۔ مسئلہ 312: استطاعت کے مطابق ایک سے زیادہ قربانی دینا بھی مسنون ہے۔ مسئلہ 313: اپنے جانور کی قربانی سے گوشت خود کھانا مسنون ہے۔ [1] کتاب المناسک ، باب الصلاۃ بجمع. [2] سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ، الجزء الخامس ، رقم الحدیث 2476. [3] ابواب الذبائح اذا ذبحتم فاحسنوا الذبح.