کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 157
مسئلہ 292: ہر جمرہ کو الگ الگ سات کنکریاں مارنی چاہئیں۔ مسئلہ 293: کنکری مارتے وقت ’’اللہ اکبر‘‘ کہنا مسنون ہے۔ مسئلہ 294: جمرہ عقبہ کی رمی سے پہلے تلبیہ کہنا بند کر دینا چاہئے۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ کُنْتُ رِدْفَ النَّبِیِّ ا فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃَ فَرَمَاہَا بِسَبْعِ حَصیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ۔رَوَاہُ النِّسَائِیُّ[1] (صحیح) حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (قربانی کے دن) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو سات (الگ الگ) کنکریاں ماریں اور ہر کنکری مارتے وقت ’’اللہ اکبر‘‘ کہا۔ اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: مٹھی بھر کر ایک ہی مرتبہ سات کنکریاں مارنا جائز نہیں ایسی صورت میں مسنون طریقے کے مطابق دوبارہ رمی کرنا چاہئے اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایک دم (جانور کی قربانی) واجب ہو گی۔ مسئلہ 295: مکہ مکرمہ بائیں ہاتھ اور منیٰ دائیں ہاتھ رکھتے ہوئے رمی کرنا مستحب ہے۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ رضی اللّٰهُ عنہ اَنَّہٗ انْتَہٰی اِلَی الْجَمْرَۃِ الْکُبْرٰی جَعَلَ الْبَیْتَ عَنْ یَسَارِہِ وَمِنًی عَنْ یَمِیْنِہٖ وَرَمٰی بِسَبْعٍ وَقَالَ ہٰکَذَا رَمَی الَّذِیْ اُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب جمرہ عقبہ پر پہنچے تو بیت اللہ شریف کو اپنی بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں طرف رکھتے ہوئے جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور فرمایا ’’اس طرح رمی کی اس ذات نے جس پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 296: جمرہ عقبہ کی رمی کے فوراً بعد واپس آجانا چاہئے وہاں رکنا چاہئے نہ دعا مانگنی چاہئے۔ مسئلہ 297: جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطی کو کنکریاں مارنے کے بعد ذراہٹ کر قبلہ رو ہو کر دعاء مانگنا مسنون ہے۔ [1] کتاب الحج ،باب بیان وقت استحباب الرمی. [2] کتاب المناسک الحج ، باب الرمی بعد المسآء. [3] ابواب الحج ، باب ما جآء فی تقدیم الضعفۃ من جمع بلیل.