کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 154
اُخِّرَ اِلاَّ قَالَ اِفْعَلْ وَلاَ حَرَجَ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں کھڑے ہوئے تا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل دریافت کر سکیں۔ ایک آدمی حاضر ہوا اور عرض کیا ’’میں نے لا علمی میں قربانی سے پہلے حجامت کروالی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اب قربانی کر لو‘ کوئی حرج نہیں۔‘‘ دوسرا شخص حاضر ہوا اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں نے کنکریاں مارنے سے قبل لا علمی میں قربانی کر لی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اب کنکریاں مار لو‘ کوئی حرج کی بات نہیں۔‘‘ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیم اور تاخیر کے معاملے میں جو بھی سوال کیا گیا اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب ارشاد فرمایا ’’اب کرلو‘ کوئی حرج کی بات نہیں۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 284: طواف زیارۃ کے بعد حج کی سعی ادا کرنی چاہئے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 231‘232‘ 233 کے تحت ملاحظہ فرمائیں مسئلہ 285: حج کو حج اکبر اور قربانی کے دن (10 ذو الحجہ) کو یوم حج اکبر کہا جاتا ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم وَقَفَ یَوْمَ النَّحْرِ بَیْنَ الْجَمَرَاتِ فِیْ الْحَجَّۃِ الَّتِیْ حَجَّ فَقَالَ ((اَیُّ یَوْمٍ ہٰذَا ؟ )) قَالُوْا یَوْمُ النَّحْرِ قَالَ (( ہٰذَا یَوْمُ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ[2] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے روز (منیٰ میں) جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اس حج میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا ارشاد فرمایا ’’(لوگو!) یہ کون سا دن ہے؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’قربانی کا دن۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’یہ یوم حج اکبر ہے۔‘‘ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 286: 10 ذی الحجہ کو منیٰ میں نماز عید ادا کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ وضاحت:رمی جمرہ عقبہ‘ قربانی‘ حجامت اور طواف زیارت کے مسائل بالترتیب آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں۔ [1] کتاب الحج ، باب بیان ان السنۃ یوم النحر ان یرمی ثم …. [2] کتاب الحج ، باب استحباب طواف الافاضۃ یوم النحر.