کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 153
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی الْبُدْنِ فَنَحَرَہَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِیَدِہٖ عَنْ رَاسِہٖ فَحَلَقَ شِقَّہٗ الْاَیْمَنَ فَقَسَمَہٗ فِیْمَن یَلِیْہِ ثُمَّ قَالَ اِحْلِقِ الشِّقَّ الْآخَرَ ، فَقَالَ (( اَیْنَ اَبُوْ طَلْحَۃَ ؟ )) فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزدلفہ سے منیٰ آنے کے بعد پہلے) جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر اونٹوں کی طرف تشریف لائے اور انہیں ذبح کیا (پاس ہی) حجام بیٹھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ کے اشارے سے سر مونڈنے کا حکم دیا۔ اس نے سر کا دایاں حصہ مونڈ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نزدیک بیٹھے ہوئے لوگوں میں تقسیم کر دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجا م کو سر کا بایاں حصہ مونڈنے کا حکم دیا۔ پھر پوچھا ’’ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہاں ہے؟‘‘ (وہ حاضر ہوئے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال ان کو عنایت فرما دئیے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم اَفَاضَ یَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّی الظُّہْرَ بَمَنًی رَوَاہُ مُسْلِمٌ[2] حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہی طواف افاضہ کیا پھر (مکہ سے) منیٰ واپس جا کر نماز ظہر ادا فرمائی۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 283: قربانی کے دن جمرہ عقبہ پر رمی (کنکریاں مارنا)‘ قربانی‘ حجامت اور طواف زیارت بالترتیب کرنے افضل ہیں لیکن اگر کوئی شخص جانے بوجھے یا بے جانے بوجھے یا بھول کر آگے پیچھے کردے تو کوئی حرج نہیں۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ث قَالَ وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ بِمَنًی لِلنَّاسِ یَسْاَلُوْنَہٗ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم لَمْ اَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ اَنْ اَنْحَرَ فَقَالَ (( اِذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ )) ثُمَّ جَائَ ٗہ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم لَمْ اَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ اَنْ اَرْمِیْ فَقَالَ (( اِرْمِ وَلاَ حَرَجَ )) قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم عَنْ شَیْئٍ قُدِّمَ وَلاَ [1] ابواب الحج ، باب ما جاء فی الافاضۃ من عرفات. [2] کتاب المناسک ، باب التلبیۃ فی السیر.