کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 152
وَعَلَیْہِ السَّکِیْنَۃُ وَاَمَرَہُمْ بِالسَّکِیْنَۃِ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ[1] (صحیح) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ سے منیٰ آتے ہوئے) وادی محسر سے تیزی سے گزرے۔ راوی بشر نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سکون اور سنجیدگی کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو بھی سکون اور سنجیدگی سے چلنے کا حکم دیا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: وادی محسر‘ مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان ایک وادی ہے جہاں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے جلدی جلدی گزرنے کا حکم دیا ہے۔ مسئلہ 280: مزدلفہ سے منیٰ آتے ہوئے تلبیہ کہنا مسنون ہے۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضَِی اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّہٗ کَانَ رَدِیْفَ النَّبِیِّ ا فَلَمْ یَزَلْ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔رَوَاہُ النِّسَائِیُّ[2] (صحیح) حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما (مزدلفہ سے منیٰ آتے ہوئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے ان کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 281: وقوف مزدلفہ کے بعد منیٰ روانہ ہونے سے پہلے صرف جمرہ عقبہ کی رمی کے لئے مزدلفہ سے سات کنکریاں چننا مستحب ہے۔ واجب نہیں۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر 302کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ 10 ذِیْ الْحَجَّہ‘ یَوْ ُم النَّحْرِ 10 ذی الحجہ(قربانی کے دن) کے مسائل مسئلہ 282: یوم النحر (قربانی کے دن) منیٰ پہنچ کر سب سے پہلے جمرہ عقبہ (جو مکہ کی طرف ہے) کو کنکریاں مارنی چاہئیں پھر قربانی کرنی چاہئے پھر حجامت بنوانی چاہئے اور اس کے بعد مکہ مکرمہ جا کر طواف افاضہ کرنا چاہئے۔ [1] کتاب الحج ، باب استحباب تقدیم دفع الضعفۃ من النساء وغیرہن من مزدلفۃ.