کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 147
یُعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِّنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ وَاِنَّہٗ لَیَدْنُوْ ثَّم یُبَاہِیْ بِہِمُ الْمَلاَئِکَۃَ فَیَقُوْلُ مَا اَرَادَ ہٰٓؤُلاَئِ؟۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عرفہ کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کثر ت سے بندوں کو آگ سے آزاد کرے اس روز اللہ (اپنے بندوں کے) بہت قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان (حاجیوں) کی وجہ سے فخر کرتا ہے اور فرشتوں سے پوچھتا ہے (ذرا بتاؤ تو) یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 262: میدان عرفات میں وقوف کے لئے غسل کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ 263: میدان عرفات میں موجود حجاج کو یوم عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے البتہ غیر حجاج کے لئے جائز ہے۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم : یَوْمُ عَرَفَۃَ وَیَوْمُ النَّحْرِ وَاَیَّامُ التَّشْرِیْقِ عِیْدُنَا اْہْلَ الْاِسْلاَمِ وَہِیَ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ[2] (صحیح) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عرفہ کا دن‘ قربانی کا دن اور ایام تشریق مسلمانوں کی عید کے دن اور کھانے پینے کے دن ہیں۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلِ اللّٰہِ: صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَۃَ اَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم نْ یُکَفِّرَ السُّنَّۃَ الَّتِیْ قَبْلَہُ وَالسُّنَّۃَ الَّتِیْ بَعْدَہُ وَصِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ اَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم نْ یُّکَفِّرَ السُّنَّۃَ الَّتِیْ قَبْلَہُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ[3] حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یوم عرفہ کے روزہ (کے ثواب) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ (اس کے ذریعہ) گزشتہ ایک سال اور آنے والے ایک سال کے (صغیرہ) گناہ معاف فرما دے گا اور یوم عاشورہ (10محرم) کے روزے (کے ثواب) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ (اس کے ذریعے) وہ گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہ معاف فرمادے گا۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [1] صحیح جامع الصغیر ، للالبانی ، رقم الحدیث 3901.