کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 137
عَلَی الْحَاجِّ کَمْ سَعْیًا حاجی پر کتنی سعی واجب ہیں مسئلہ 231: حج تمتع اداکرنے والوں پر دوسعی واجب ہیں پہلی عمرہ کی جو کہ مکہ پہنچتے ہی عمرہ کے لئے اداکی جائے اور دوسری حج کی جو قربانی کے دن (10 ذی الحجہ )طواف زیارت کے بعد کی جائے۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّہَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِیْنَ اَہَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوْا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ اَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ۔رَوَاہُ ابْنِ خُزَیْمَۃَ[1] (صحیح) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم حجۃالوداع کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ(مدینہ سے) نکلے۔جن لوگوں نے عمرے کے لئے احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا ،صفا اور مروہ کی سعی کی اور اپنا احرام کھول دیا۔پھر(قربانی کے دن)منی سے واپس آنے کے بعد (طواف زیارت کے ساتھ)حج کے لئے صفا اور مروہ کی دوبارہ سعی کی۔اسے ابن خزیمہ نے روایت کیاہے۔ مسئلہ 232: حج افراد ادا کرنے والوں پر حج کی صرف ایک سعی واجب ہے جو قربانی کے دن طواف زیارت کے بعد کی جائے گی۔ مسئلہ 233: حج قران ادا کرنے والوں پر دو سعی واجب ہیں ایک عمرہ کی اور دوسری حج کی۔ مسئلہ 234: قارن اگر عمرہ کی سعی کرتے وقت عمرہ اورحج دونوں کی سعی کی نیت کرلے تو دو الگ الگ سعی کرنے کی بجائے ایک ہی سعی کافی ہے۔ [1] کتاب المناسک ، باب فیمن قدم شیئا قبل شیء فی حجہ.