کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 134
وضاحت: اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو اٹھا کر سعی کرے اور حامل اور محمول دونوں کی نیت سعی کی ہو تو بیک وقت دونوں کی سعی ہو جائے گی۔ انشاء اللہ! مسئلہ 223: بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کے بعد اگر سعی کرنے میں تاخیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ کَانَ عَطَائٌ وَالْحَسَنُ لاَ یَرَیَانِ بَاسًا لِّمَنْ طَافَ اَوَّلَ النَّہَارِ اَنْ یُّؤَخِّرَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ اِلَی الْعِشَائِ۔ذَکَرَہُ فِیْ شَرَحِ السُّنَّۃِ[1] حضرت عطا رحمہ اللہ اور حضرت حسن رحمہ اللہ بیت اللہ شریف کا طواف پہلے پہر کرنے اور صفا و مروہ کی سعی پچھلے پہر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے۔ یہ روایت شرح السنہ میں ہے۔ مسئلہ 224: اگر کسی کو سعی یا طواف کے چکروں کی تعداد کے بارے میں شک ہو جائے تو کم تعداد کا یقین حاصل کر کے سعی یا طواف مکمل کرنا چاہئے۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم یَقُوْلُ: اِذََا شَکَّ اَحَدُکُمْ فِیْ الثِّنْتَیْنِ وَالْوَاحِدِۃِ فَلْیَجْعَلْہَا وََاحِدَۃً وَّاِذَا شَکَّ فِیْ الثِّنْتَیْنِ وَالثَّلاَثِ فَلْیَجْعَلْہَا ثِنْتَیْنِ وَاِذَا شَکَّ فِیْ الثَّلاَثِ وَالْاَرْبَعِ فَلْیَجْعَلْہَا ثَلاَثًا ثُمَّ لِیُتِمَّ مَا بَقِیَ مِنْ صَلاَتِہٖ حَتّٰی یَکُوْنَ الْوَہْمُ فِیْ الزِّیَادَۃِ ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ اَنْ یُسَلِّمَ۔رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ[2] (صحیح) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو (نماز کی رکعات کی تعداد میں) شک ہو جائے کہ دو پڑھی ہیں یا ایک‘ تو وہ اسے ایک شمار کرے اور اگر دو یا تین کا شک ہو‘ تو دو شمار کرے اور اگر تین یا چار کا شک ہو‘ تو تین شمار کرے اور اپنی باقی نماز پوری کرے تا کہ وہم زائد رکعت میں رہے (اور کم رکعات کے یقین سے نماز مکمل ہو جائے) پھر سلام پھیرنے سے قبل بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: یاد رہے نماز کی رکعات میں شک ہو جانے پر کم رکعات کا یقین حاصل کرنے کے بعد سجدہ سہو ادا کرنا پڑتا ہے لیکن طواف یا سعی کے چکروں میں شک پڑنے پر کم چکروں کا یقین حاصل کر کے طواف اور سعی مکمل کرنے کے بعد کوئی فدیہ یا دم نہیں۔ مسئلہ 225: سعی کے سات چکر مکمل ہونے پر عمرہ (یا حج تمتع) ادا کرنے والوں کو [1] کتاب المناسک ، رقم الحدیث 276. [2] فقہ السنۃ ، للسید السابق ، کتاب الحج باب السعی بین الصفا والمروۃ. [3] کتاب الحج ، باب السادس رقم الحدیث 896.