کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 123
ہوئے تشریف لائے اَبْدَءُ بِمَا بَدَاءَ اللّٰہ (ترجمہ میں سعی کا آغاز صفا سے کرتا ہوں جس کے ذکر سے اللہ عزوجل نے (قرآن مجید میں آیت کا) آغاز فرمایا۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: مذکورہ حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دورکعت نماز ادا کرنے کے بعد حجر اسود کے استلام کرنے کو محدثین نے راوی کا سہو قرار دیا ہے کیونکہ متفق علیہ احادیث میں ایسا نہیں ہے۔ مسئلہ 192: زمزم روئے زمین کے تمام پانیوں سے بہتر پانی ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم قَالَ: خَیْرُ مَاءٍ عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ مَاءُ زَمْزَمْ فِیْہِ طَعَامٌ مِنَ الطُّعْمِ وَشِفَاءٌ مِّنَ السُّقْمِ۔رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ[1] (حسن) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”روئے زمین پر سب سے بہتر پانی زمزم ہے جو کہ بھوکے کے لئے کھانا اور بیمار کے لئے شفاء ہے۔“ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 193: زمزم پینے سے قبل مانگی گئی دعاء قبول ہوتی ہے۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللّٰهُ عنہ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم یَقُوْلُ ((مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَةَ[2] (صحیح) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زمزم کا پانی جس ارادے سے پیا جائے وہ پورا ہوتا ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ 194: زمزم پینے سے قبل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خاص دعاء مانگنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ 195: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما زمزم پینے سے قبل درج ذیل دعاء مانگا کرتے تھے۔ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اِذَا شَرِبَہُ قَالَ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّشِفَاءً مِّنْ کُلِّ دَاءٍ۔رَوَاہُ الْمُنْذِرِیُّ[3] حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب زمزم پیتے تو یہ دعاء مانگتے ”اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم‘ [1] کتاب الحج ، باب اباحۃ الطواف فی کل اوقات. [2] الجزء الثالث ، رقم الصفحۃ 394.