کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 115
مسئلہ 164: طواف میں بیت اللہ شریف بائیں طرف ہونا چاہئے۔ مسئلہ 165: ایک طواف بیت اللہ شریف کے گرد سات چکروں پر مشتمل ہونا چاہئے۔ مسئلہ 166: طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل (کندھے اکڑا کر تیز تیز اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا) مسنون ہے۔ مسئلہ 167: سات چکر پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیم پر آکر دو رکعت نماز ادا کرنا مسنون ہے۔ مسئلہ 168: دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد صفا اور مروہ پر جانے سے قبل حجر اسود کا استلام کرنا مسنون ہے۔ عَنْ جَابِرٍ رضی اللّٰهُ عنہ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم مَکَّةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ مَضٰی عَلٰی یَمِیْنِہ فَرَمَلَ ثَلاَثًا وَمَشَی اَرْبَعًا ثُمَّ اَتَی الْمَقَامَ فَقَالَ ﴿ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی﴾ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَالْمَقَامُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ ثُمَّ اَتَی الْحَجَرَ بَعْدَ الرَّکْعَتَیْنِ فَاسْتَلَمَہُ ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّفَا۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ [1] (صحیح) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور مسجد حرام میں داخل ہوئے تو حجر اسود کا استلام کیا پھر بیت اللہ شریف کی دائیں طرف چلنا شروع کیا۔ تین چکروں میں رمل کیا۔ (باقی) چار چکروں میں عام رفتار سے چلے (سات چکر پورے کرنے کے بعد) مقام ابراہیم کی طرف تشریف لائے اور یہ آیت تلاوت فرمائی ” اور مقام ابراہیم کو اپنی جائے نماز بناؤ۔“ (سورہ بقرہ، آیت نمبر 125) وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔ (اس وقت) مقام ابراہیم‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیت اللہ شریف کے درمیان تھا۔ نماز کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس تشریف لائے‘ استلام کیا اور صفا کی طرف (سعی کے لئے) تشریف لے گئے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل صرف مردوں کے لئے ہے، عورتوں کے لئے نہیں۔ ملاحظہ ہو مسئلہ نمبر 216 [1] منتقی الاخبار ، کتاب الحج باب الطہارۃ وسترۃ الطواف. [2] کتاب الحیض والاستحاضۃ باب الفرق بین دم الحیض والاستحاضۃ.