کتاب: حج اور عمرہ کے مسائل - صفحہ 110
کرنا مسنون ہے۔ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَیْرِ رضی اللّٰهُ عنہ فَقَالَ قَدْ حَجَّ النَّبِیَّ فَاَخْبَرَتَنِیْ عَائِشَةُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ اَوَّلَ شَیْءٍ بَدَأَ بِہ حِیْنَ قَدِمَ النَّبِیُّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم مَکَّةَ اَنَّہ تَوَضًّا ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ۔مُتَفَقٌّ عَلَیْہِ[1] حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ (مسجد حرام) تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ وضاحت: اگر فرض نماز کھڑی ہو یا قضا نماز ادا کرنی ہو تو پہلے نماز ادا کرنی چاہئے اور پھر طواف کرنا چاہئے۔ مسئلہ 149: مسجد الحرام میں داخل ہو کر تحیة المسجد ادا کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ 150: مسجد الحرام سے نکلتے وقت الٹے پاؤں واپس آنا سنت سے ثابت نہیں۔ [1] کتاب المساجد ۔باب الدعاء عند دخول المسجد. [2] کتاب الحج ، باب فیما یلزم الحج بعد دخول مکۃ رقم الحدیث 874.