کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 91
امام زہری کا شمار ان مایہ ناز اور جلیل القدر محدثین میں ہوتا ہے جو غضب کا حافظہ رکھتے تھے اور جو حدیث ایک بار سنتے وہ لوح قلب پر نقش ہوجاتی، وہ خود فرماتے ہیں : کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے کوئی علم اپنے دل میں محفوظ کیا ہو، پھر اسے بھول گیا ہوں ۔‘‘[1] نقد حدیث اور راویان حدیث کے احوال کے غیر معمولی اور نادر المثال واقف کار امام علی بن مدینی فرماتے ہیں : ’’میں نے عبد الرحمن بن مہدی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ مالک بن انس نے بیان کیا ہے کہ زہری نے ہم سے ایک طویل حدیث روایت کی جس کو میں یاد نہ رکھ سکا اور اس کے بارے میں ان سے سوال کر بیٹھا، تو انھوں نے فرمایا: کیا یہ حدیث میں تم لوگوں سے بیان نہیں کرچکا ہوں ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ۔ پھر میں نے عرض کیا: کیا آپ حدیثیں قلم بند نہیں کرتے تھے؟ فرمایا: نہیں ۔ میں نے پوچھا: ان کی تکرار بھی نہیں کرتے تھے؟‘‘ جواب دیا: نہیں ۔‘‘[2] امام زہری کی قوت حافظہ کے ضمن میں یہ بات ذہنوں میں تازہ رکھنی چاہیے کہ انھوں نے ۸۰ دنوں میں قرآن پاک حفظ کیا تھا جس کے بھولنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، اور یہ بتانا تحصیل حاصل ہے کہ اس دور میں قرآن پاک کے نسخے شاذ و نادر ہوتے تھے، سارا اعتماد حافظہ پر ہوتا تھا۔ مذکورہ بالا وضاحتوں کی روشنی میں یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اپنے دور کے دوسرے محدثین کی طرح امام زہری بھی اپنے شاگردوں کو حدیثیں املاء کرانے اور لکھوانے سے گریز کرتے تھے، تاکہ حافظہ پر اعتماد باقی رہے اور کتاب دیکھنے کی عادت نہ پڑے۔ لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ ہشام بن عبد الملک نے ان کے حافظہ کا امتحان لینا چاہا، مگر ان سے اس کا اظہار کرنے کے بجائے ان سے یہ کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی قوت حافظہ جانچنا چاہتا ہے، لہٰذا وہ اس کو یہ حدیثیں املاء کراکے لکھوادیں ، پہلے تو امام زہری نے تردد کیا، لیکن پھر کاپی منگوائی اور کاتب کو یہ حدیثیں املاء کرکے قلم بند کروادیں ۔ اس واقعہ پر چند ماہ گزر جانے کے بعد ہشام نے ان سے کہا: اے ابوبکر! وہ کاپی ضائع ہوگئی ہے، اس لیے وہ ۴۰۰ حدیثیں املاء کراکے دوبارہ لکھوادیجیے۔ زہری نے اسی وقت اپنے حافظہ سے وہ حدیثیں املاء کرادیں ۔ اس کے بعد ہشام نے دونوں کاپیوں میں موازنہ کیا تو ان میں ایک لفظ کا بھی اختلاف نہ پایا۔ چونکہ یہ عمل ان کے اصول اور قاعدے کے خلاف تھا، اس لیے ہشام کے قصر سے باہر نکل کر جب اپنے شاگردوں کے پاس پہنچے توبآواز بلند یہ اعلان فرمادیا: ((یاأیہا الناس إنا کنا منعناکم أمرا قد بذلناہ الآن لھولاء الآمراء، وإن ھولاء [1] طبقات علماء الحدیث ج۱، ص ۱۸۲ [2] سیر أعلام النبلاء ج۶، ص ۱۴۸