کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 84
زہری اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک کے پاس گئے تو اس نے دریافت کیا کہ وہ کون سی حدیث ہے جو اہل شام میں زبان زد ہے؟ زہری نے فرمایا: امیر المومنین! کون سی حدیث؟ ولید نے کہا: ((یحدثوننا ان اللّٰه اذا استرعی عبد ارعیتہ کتب لہ الحسنات ولم یکتب لہ السیئات، قال الزہری: باطل یا امیر المومنین۔ أنبی خلیفۃ اکرم علی اللّٰه ام خلیفۃ غیر نبی؟ قال: بل نبی خلیفۃ، قال: فان اللّٰه تعالی یقول لنبیہ داؤد علیہ السلام: یا داود إنا جعلناک خلیفۃ فی الأرض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللّٰه ان الذین یضلون عن سبیل اللّٰه لہم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب۔)) ’’لوگ ہم سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ اللہ جب کسی بندے کو اپنی رعیت کا سرپرست اور راعی بنادیتا ہے تو اس کے لیے صرف نیکیاں لکھتا ہے اس کی برائیاں نہیں لکھتا۔‘‘ زہری نے فرمایا: امیر المومنین! یہ روایت باطل ہے، پھر فرمایا: کیا اللہ کے نزدیک بنی خلیفہ زیادہ باعزت ہے یا غیر نبی خلیفہ؟ ولید نے جواب دیا: بلکہ بنی خلیفہ۔ اس پر امام زہری نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے نبی داؤد علیہ السلام سے فرماتا ہے: اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کر اور خواہش نفس کی پیروی مت کر، کیونکہ یہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی درحقیقت جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے یوم حساب بھول جانے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔ (ص:۲۶) ((فہذا وعید یا أمیر المومنین لنبی خلیفۃ، فما ظنک بخلیفۃ غیر نبی؟ قال الولید: إن الناس لیغووننا عن دیننا۔)) ’’امیر المومنین! یہ ایک ایسے نبی کے لیے وعید ہے جو خلیفہ تھا تو آپ کا اس خلیفہ کے بارے میں کیا خیال ہے جو نبی نہیں ہے؟ ولید نے کہا: دراصل لوگ ہمیں ہمارے دین سے پھیر دینا چاہتے ہیں ۔‘‘[1] کیا جو امام حدیث ایک ایسے مطلق العنان فرماں روا کے سامنے اس صاف گوئی سے حق بات کہہ سکتا ہے، اس پر یہ الزام لگانا دیانت داری اور حق پسندی ہے کہ وہ اس کے اور اسی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دوسرے خلفاء کو خوش کرنے کے لیے ان کی منقبت میں جھوٹی روایتیں گھڑتا تھا۔ یہاں تو لقمہ تر تیار تھا اور جھوٹی روایت خود خلیفہ نے ان کو سنا [1] العقد الفرید: ج۱، ص ۶۰۔ السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی ص ۲۴۰، الوضع فی الحدیث ص ۱۸۶۔