کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 75
(۱) پہلا گروپ: اس گروپ میں امام زہری کے وہ شاگرد شامل ہیں جو ان سے روایت حدیث میں صحتِ بیانی کے نہایت بلند مقام پر فائز تھے، جیسے مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، یونس بن یزید ایلی اور عقیل بن خالد ایلی وغیرہ۔ امام بخاری نے بنیادی طور پر امام زہری کے انہی شاگردوں کی ان سے روایت کردہ حدیثیں صحیح بخاری میں لی ہیں ۔ (۲) دوسرا گروپ: امام زہری کے شاگردوں کا یہ گروپ دینی و اخلاقی استقامت اور روایت حدیث میں وثوق و احتیاط پسندی اور صحت بیانی اور حفظ حدیث میں پختہ کاری میں تو پہلے گروپ کے مانند ہے ،لیکن اس کو پہلے گروپ کی طرح امام زہری کی طویل رفاقت و مصاحبت اور سفر و حضر میں ان کی دائمی ہم نشینی نہیں حاصل رہی جیسے لیث بن سعد، اوزاعی، عبد الرحمن بن خالد بن مسافر، محمد بن عبد الرحمن بن ابی ذئب اور نعمان بن راشد وغیرہ امام بخاری نے اس گروپ کے ایسے راویوں کی حدیثیں اپنی صحیح میں شامل کی ہیں جن پر ان کو زیادہ اعتماد تھا، دوسرے لفظوں میں پہلے گروپ کے برعکس اس گروپ کے راویوں کی روایت کردہ حدیثیں لینے میں انھوں نے انتخاب سے کام لیا ہے۔ جبکہ امام مسلم نے دونوں گروپوں کی احادیث یکساں طور پر بلاکسی انتخاب کے اپنی صحیح میں لی ہیں جس سے اس فرق کو سمجھا جاسکتا ہے جو ان دونوں جلیل القدر اماموں کے اصولِ انتخاب حدیث میں پایا جاتا ہے، اور یہی وہ احتیاط پسندی اور صحت حدیث سے غیر معمولی اہتمام ہے جس نے امام بخاری کا مقام و مرتبہ دوسرے محدثین پر بلند کردیا ہے۔ (۳) تیسرا گروپ: اس گروپ میں امام زہری کے ایسے شاگرد شامل ہیں جن کو امام زہری کی طویل رفاقت اور ہم نشینی تو حاصل رہی، بایں ہمہ روایت حدیث میں صحت بیانی، حفظ و ضبط میں پختہ کاری اور وثوق و احتیاط پسندی کے اعتبار سے اس مقامِ بلند پر فائز نہ تھے کہ نقاد حدیث کی جرح و گرفت سے محفوظ رہتے، جیسے جعفر بن برقان، سفیان بن حسین، اسحاق بن یحییٰ کلبی معاویہ بن یحییٰ صدفی، مثنی بن صباح وغیرہ امام بخاری نے ان راویوں میں سے معدودے چند راویوں کی معلق روایتیں عناوین ابواب کے توضیحی بیانات کے ضمن میں لی ہیں ، جبکہ امام مسلم نے اس تیسرے گروپ کے منتخب راویوں کی مرویات اپنی صحیح میں شامل کی ہیں ۔ (۴) چوتھا گروپ: اس گروپ کے راوی جہاں نقاد حدیث کی نہایت کڑی جرح و تعدیل کی زد پر آئے ہیں بذات خود امام زہری کی طویل ہم نشینی اور ان سے علم حدیث اور روایت حدیث مطلوبہ اور معیاری شکل میں حاصل کرنے کا موقع نہ پانے کی وجہ سے ثقاہت کا مطلوبہ مقام نہ حاصل کرسکے، جیسے زمعہ بن صالح اور تیسرے گروپ کے معاویہ بن یحییٰ اور مثنی بن