کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 543
کیا انسان کے اقوال اس کے عقائد بیان نہیں کرتے ؟ میں نے گزشتہ صفحات میں اہل کلام کے عقائد کو بیان کرنے میں اتنی تفصیل سے کام اس لیے لیا ہے ، تاکہ یہ دکھا سکوں کہ جب یہ لوگ توحید اور اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کے مسئلہ میں قرآن کو حجت بنانے کے بجائے عقل کو دلیل و حجت مانتے ہیں اور اس باب میں قرآنی مفاہیم کو ظنی قرار دیتے ہیں ۔تو پھر ان کی نظر میں عقل سے متعارض احادیث کی کیا قدر و قیمت ہو گی ؟ تعجب ان متکلمین کے افکار و آراء پر نہیں ہے ، کیونکہ ان کے پیشوا تو معتزلہ اور فلاسفہ یونانی ہیں ، تعجب تو ان بزرگان دین ، فقہاء اور صوفیا پر ہے جو اپنے عقائد کا ماخذ متکلمین کی کتابوں کو بناتے ہیں !!