کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 54
کے درجات اور خصوصیتوں کو بیان کرنا ہے۔ اس علم کی بنیاد ارشاد الٰہی اور ارشاد نبوی دونوں ہے، سورۂ انعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ﴾ (الانعام:۱۶۵) ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ہے اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلندی عطا کی ہے تاکہ جو کچھ اس نے تمھیں دیا ہے اس میں تمھیں آزمائے، درحقیقت تمہارا رب سزا دینے میں بہت تیز ہے۔‘‘ یہ آیت یہ صراحت کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درجات ی کساں نہیں رکھے ہیں اور درجات اور مراتب کے اسی فرق کی بنیاد پر ان کے اعمال اور ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے جس کا ان کی آزمائشوں میں بھی اعتبار ہے۔ سورۃ التوبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مہاجرین اور انصار کے ہر اول دستوں اور ان کے بعد کے خوش نصیبوں کا ذکر بہت مؤثر انداز میں کیا گیا ہے، ارشاد ربانی ہے: ﴿وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ﴾ (التوبہ:۱۰۰) ’’اور مہاجرین اور انصار میں سے پہلے سبقت کرنے والے اور جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔‘‘ چو نکہ سبقت میں اولیت داخل ہے اس لیے ’’الاولون‘‘ السابقون کی تاکیدی صفت قرار پائی اور ’’اتبعوھم‘‘ میں ہم سے مراد وہی ’’السابقون الاولون‘‘ ہیں اور ان کے بعد اور پیچھے آنے والوں میں صحابہ اور تابعین دونوں شامل ہیں ، اگرچہ اصطلاحی اعتبار سے صحابی اور تابعی میں فرق ہے، اس کو تَبِعَ یَتْبَعُ تَبْعًا اور اِتِّبَعَ یَتَّبِعُ اِتِّبَاعًا کے استعمال سے سمجھا جاسکتا ہے جس کے معنی ہیں پیچھے آنا، بعد میں آنا، پیروی کرنا اور نقش قدم پر چلنا وغیرہ۔ تَبَعٌ۔ تابع۔ اس سائے کو کہتے ہیں جو ہر چیز کے ساتھ لگا رہتا ہے اور کبھی جدا نہیں ہوتا اور تَبِیْعٌ گائے کے بچے کو کہتے ہیں جو اپنی ماں کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔[1] اس لغوی مفہوم کے اعتبار سے ’’اتبعوھم‘‘ سے جہاں وہ صحابہ کرام مراد ہیں جو مہاجرین و انصار کے پہلے گروہ کے بعد ایمان لائے وہیں وہ لوگ بھی مراد ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے اور آپ کی صحبت میں رہنے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی اور جن کو اصطلاح میں تابعی کہتے ہیں ۔ صحابی اور تابعی کی اصطلاحی بحث آگے آرہی ہے۔ صحابہ کرام میں سابقین اور لاحقین کا وجود خود قرآن پاک سے ثابت ہے اور اپنے شرف و عظمت اور سبقت [1] مقاییس اللغۃ بحوالہ محبۃ الرسول ص ۱۰۱، المعجم الاوسط مادہ ت، ب، ع۔