کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 537
معلوم تھی ۔ البتہ انہوں نے اس کو لازمی لام تعلیل سمجھ لیا جس کی وجہ سے ان کو ’’لیعبدون ‘‘کی کافی تاویل کرنی پڑی اور مختلف علماء کے اقوال کا سہارا لینا پڑا، اگر وہ اس کا لام تعلیل اختیاری اور مقصدی مان لیتے تو تمام تکلّفات سے بچ جاتے اور آیت کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ، یعنی آیت مبارکہ یہ بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کی غرض اور مقصد سے پیدا کیا ہے ، مطلب یہ ہے کہ جنوں اور انسانوں کی خلقت کی حکمت اور غایت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے ، لیکن اس حکمت اور غایت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ بندے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اس کی الوہیت کی تکمیل کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کا پابند بنا کر اپنی الوہیت کی تکمیل کرنی چاہی ہے ، گویا وہ ان کی عبادت کا محتاج تھا اس لیے ان کو وجود بخشا ، جیسا کہ بوطی نے لام تعلیل سے یہ مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے ۔ دراصل یہ بیمار ذہنیت کی پیداوار ہے جو یونانی فلاسفہ کی اندھی تقلید ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ کا پوری کائنات کو خاص حکمت ، غایت اور مقصد کے لیے پیدا کرنا اس کے احتیاج پر دلالت نہیں کرتاہے ،بلکہ اس کے حکمت کی صفت سے موصوف ہونے اور اس کے غالب و علیم ہونے پر دلالت کرتا ہے ،وہ آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان پائی جانے والی تمام مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے بھی خالق تھا یہ اس کی ازلی او رابدی صفت ہے ، اسی طرح وہ جنوں اور انسانوں کو پیدا کرنے سے پہلے بھی الہ اور معبود تھا اور اگر کوئی بھی اس کی عبادت نہ کرے ، پھر بھی وہ معبود رہے گا۔ عبادت سے بندوں کو فائدہ ہے اللہ کو نہیں ، میں نے سورہ ذاریات کی زیر بحث آیت میں ’’لیعبدون ‘ کے لام کو لام تعلیل مقصدی جو کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جن اور انسان اس عبادت پر مجبور نہیں ہیں ۔ ورنہ کوئی بھی اس عبادت سے روگردانی نہیں کر سکتا تھا ۔ عربی میں ا س علت کو جس پر یہ لام دلالت کرتا ہے ’’علت غائیہ ‘‘ کہتے ہیں اور جس فعل پر یہ آتا ہے وہ سابق فعل کا مقصد ، غایت اور حکمت بیان کرتا ہے ۔ اہل کلام اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق میں حکمت اور غایت کا انکار اس لیے نہیں کرتے کہ اس سے اس کی ذات میں نقص اور عیب لازم آتا ہے ، اور عقل کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال حکمت اور غایت سے خالی ہوں ۔بلکہ ان کے اس اعتقاد کا سبب یہ ہے کہ ان کے امام ارسطو اور اس کے ہمنوا دوسرے اہل فلسفہ کا یہی دعوی ہے ، ورنہ اگر وہ حق پسند ہوتے اور اللہ کی کتاب پر ایک طائرانہ نظر ڈال لیتے تو ان کو یہ معلوم ہو جاتا کہ کائنات کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے ایک خاص حکمت اور مقصد سے کی ہے ، جو اس کے ضعف ، کمزوری اور احتیاج پر دلالت کرنے کے بجائے اس کے حکیم ، علیم اور عزیز ہونے پر دلالت کرتا ہے ، ارشاد الٰہی ہے : ﴿وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ﴾ (الانبیاء:۱۶) ’’اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیلتے ہوئے نہیں پیدا کیا ہے ۔‘‘