کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 494
قَرِیْب﴾ (سبا :۵۰) ’’کہہ دو اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال میری ذات پر ہو گا اور اگر میں نے ہدایت پائی ہے تو اس وحی کی بدولت جو میرا رب مجھے کرتا ہے ، درحقیقت وہ سب کچھ سننے والا اور قریب ہے ۔‘‘ اب اگر تمام مخلوقات میں سب سے بڑے عقلمند کا حال یہ تھا کہ اس کو ہدایت وحی کے ذریعہ حاصل ہو ئی تو پھر سب سے بڑے ناعقلوں اور خواب و خیال کی دنیا میں رہنے والوں کو وحی الٰہی کے بغیر محض اپنی عقلوں سے ایمان کے حقائق کس طرح معلوم ہو گئے ؟ دین کے بارے میں متکلمین کی باتیں اٹکل پچو ہیں : متکلمین کا ظہور اسلام کے مدافع اور حامی کی شکل میں ہوا یا انہوں نے خود اسلام کے دفاع اور حمایت کا دعویٰ کیا اور ان کے اس دعوی کو سچ مان کر فقہاء اور صوفیا نے بھی انہی کا راگ الاپنا شروع کر دیا مشہور مصنف اور مفکر مولانا ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ اپنی کتاب : رجال الفکر والدعوۃ فی الاسلام ‘‘ کے عربی ایڈیشن میں تحریر فرماتے ہیں : متکلمین اسلام کا معاملہ بھی عجیب ہے جن کا مقصد تو فلسفہ کا رد اور اسلام کا دفاع تھا، مگر انہوں نے بھی فلسفہ کی اصطلاحوں اوراس کے مفروضوں کو اپنا لیا اور پورے اعتماد اور تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں اس طرح بحث کرنے لگے ، گویا وہ کسی ایسی شخصیت کے بارے میں بات کر رہے ہوں جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہو اور جس کو محسوس کیا جا سکتا ہو ، یا وہ کوئی طبعی مسئلہ ہو ، ان متکلمین نے اپنا ہدف تو فلاسفہ کو جواب دینا اور ان کے نظریات اور آراء کی تردید بنایا تھا ، لیکن وہ فلسفہ اور اس کے غلط مفروضوں اور اصطلاحوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے اور بحث و جدال کے جوش میں یہ بھول گئے کہ وہ فلسفہ کی بنیادی غلطیوں کی مذمت کریں اور کسی حال میں بھی ان کو موضوع بحث نہ بننے دیں ، ان کو یہ یاد نہ رہا کہ وہ فلسفہ کو یہ تلقین کریں کہ وہ اپنی بحث و جدال ریاضیات اور طبعی امور تک محدود رکھے رہا اللہ کی ذات و صفات کو موضوع بنانا تو یہ اس کے دائرے سے خروج ، اس کی حدود سے تجاوز اور غیر منطقی مداخلت سے عبارت ہے ، ان متکلمین کی یہ بھی ذمہ داری تھی کہ وہ اہل فلسفہ کو قرآن کی بلیغانہ خطاب سے مخاطب بناتے : ﴿ھٰٓااَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآئِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن﴾ (اٰل عمران:۶۶) ’’تم وہی لوگ تو ہو کہ تم نے اس چیز کے بارے میں حجت بازی کی جس کا تمہیں کچھ علم تھا ، تو اس مسئلہ میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔‘‘ [1] اوپر اشارۃً یہ بات آچکی ہے کہ عقل کی رسائی وجود باری تعالیٰ ، اسماء و صفات، توحید، قضا و قدر، نبوت ومعاد ، [1] ص ۲۹۰ ج ۲ بحوالہ مقدمہ شرح العقیدہ الطحاویہ ص ۷،۸