کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 464
دروغ گورا حافظہ نباشد: اوپر دعویٰ یہ کیا جا رہا تھا کہ سنت دراصل عملِ متواتر کا نام ہے اور جب اس عملِ متواتر میں اختلاف کا مسئلہ پیش آگیا تو ’’روایات‘‘ کی بحث شروع کر دی گئی، ہونا یہ چاہیے تھا کہ درمیان میں ’’حدیث ‘‘ کا ذکر لایا ہی نہ جاتا کہ یہ سنت سے بالکل مختلف چیز ہے او رزبانی روایت سے عبارت ہے عملی تواتر سے نہیں پھر جو چیز عملِ متواتر سے عبارت ہو اس میں اختلاف کا گزر کہاں ؟ اصلاحی صاحب نے بھی یہی کیا ہے کہ دعویٰ تو یہ کیا ہے کہ ’’حدیث اور سنت میں آسمان و زمین کا فرق ہے اور دین میں دونوں کا مقام و مرتبہ الگ الگ ہے ‘‘[1] پھر سنت کی تعریف کرتے ہوئے ان کو اپنی یہ بات یاد نہیں رہی اور اس کی ایسی تعریف کر دی جو درحقیقت حدیث کی تعریف ہے یا دونوں کی کیونکہ جمہور محدثین اور فقہا کے نزدیک دونوں مترادف ہیں فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک بحث اس وقت سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے یعنی وہ طریقہ جو آپ نے بحیثیت معلم شریعت اور بحیثیت کامل نمونہ کے ، احکام و مناسک کے ادا کرنے اور خود کو اللہ تعالیٰ کی پسند کے سانچہ میں ڈھالنے کے لیے عملا اور قولا لوگوں کو بتایا اور سکھایا [2] کیا بعینہ یہی حدیث کی تعریف بھی نہیں ہے ؟ سنت قرآن پاک میں : ندوی اور اصلاحی نے سنت سے متعلق اپنے دعوی کی تائید میں قرآن پاک سے بھی استدلال کیا ہے ، اولا تو ان کو قرآن سے استدلال کرنا ہی نہیں چاہیے کیونکہ محدثین اور فقہا جس معنی میں سنت کا لفظ بولتے ہیں اس معنی میں قرآن میں اس کا استعمال نہیں ہوا ہے ، ثانیا قرآن پاک میں یہ لفظ جس معنی میں آیا ہے ان دونوں بزرگوں نے اس سے مختلف معنی بتائے ہیں یا اس کے صرف ایک معنی لکھے ہیں ، اصلاحی صاحب فرماتے ہیں : سنت کے لغوی معنی ہیں : واضح راستہ، مصروف راستہ، چلتا ہوا راستہ ، پٹا ہوا راستہ اور ہموار راستہ ‘‘[3] موصوف نے مترادفات کی بھرمار کر دی ، مگر جن معنوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کو استعمال کیا ہے ان کی طرف اشارہ تک نہیں کیا ۔ مولانا ندوی فرماتے ہیں : سنت خالص عربی زبان کا لفظ ہے اس کے لفظی معنی رستے کے ہیں ، لیکن بول چال میں اس کے معنی اس طریقہ عمل کے ہیں جس پر ہمیشہ کوئی عمل جاری ہے۔ [4] یہ معنی درست تو ہیں ، لیکن ناقص ہیں اور جن آیتوں سے استدلال کیا ہے ان میں بھی ان معنوں میں یہ لفظ نہیں آیا ہے ۔ [1] ص :۱۹ [2] ص ۲۴ [3] ص ۲۴ [4] ص ۱۴۶