کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 461
دونوں میں فرق ہے تو ترجیح بہرحال امت کے عملی تواتر کو حاصل ہو گی اگر کسی معاملے میں اخبار احاد ایسی ہیں کہ عملی تواتر کے ساتھ ان کی مطابقت نہیں ہو رہی تو ان کی توجیہہ تلاش کیجائے گی ، اگر توجیہہ نہیں ہو سکے گی تو بہرحال انہیں مجبورا چھوڑا جائے گا اس لیے کہ وہ ظنی ہیں اور سنت ان کے بالمقابل قطعی ہے۔[1] حدیث کی ظنیت اور اس کے صدق و کذب دونوں کے احتمال رکھنے کے دعوی کی قلعی کھول چکا ہوں ۔ اصلاحی صاحب نے اتنا بڑا دعویٰ تو کر دیا کہ ’’حدیث اور سنت میں آسمان و زمین کا فرق ہے ، اور دین میں دونوں کا مرتبہ و مقام الگ الگ ہے ان کو ہم معنی سمجھنے سے بڑی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ لیکن اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں دی اور نہ کسی ایک چھوٹی سی مثال دے کر یہی واضح کیا کہ دونوں کو ہم معنی سمجھنے سے کیا پچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ؟ دراصل بڑے بڑے دعوے کرنا اصلاحی صاحب اور ان کے مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں کی خاص پہچان رہی ہے ۔ حدیث اورسنت میں فرق آئمہ حدیث سے بھی منقول ہے ، مگر یہ فرق اولاً تو بہت معمولی ہے جس کے عملی طور پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔ صرف معدودے چند ہی لوگوں نے حدیث اورسنت کے درمیان یہ فرق کیاہے جمہور محدثین اور فقہاء کے نزدیک دونوں اصطلاحی طورپرایک دوسرے کے مترادف ہیں ’’ناصر السنۃ‘‘ کے لقب کے حامل امام شافعی رحمہ اللہ نے تو الأم اور الرسالۃ دونوں میں صرف ’’سنت‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جس سے حدیث ہی مراد لی ہے، یعنی ان کے نزدیک سنت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ، افعال ، تقاریر، شمائل و سیر اور مغازی سبھی کچھ داخل ہیں اور جہاں تک میرا خیال ہے امام شافعی عربی زبان میں بھی اصلاحی صاحب اور ان کے مکتبہ فکرکے اکابر سے زیادہ مہارت رکھتے تھے ، شریعت کے بھی زیادہ مزاج شناس تھے اور حدیث اور سنت کے درمیان فرق کی حقیقت سے بھی واقف تھے ۔ اصلاحی صاحب کے نظریہ حدیث کے حامی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ علم حدیث میں ان کو منفرد مقام و مرتبہ حاصل ہوچکا تھا اور ان کے بعض دعا دی کو علمی انکشافات کی شکل میں پیش کرتے ہیں ، جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اولا تو یہ محض دعاوی ہیں ثانیا یہ ان کی اپنی ’’اپج‘‘ بھی نہیں ہے ، بلکہ دوسروں سے حاصل کی ہے ، گزشتہ صفحات میں اشارۃً میں یہ واضح کر چکا ہوں کہ حدیث اور سنت میں فرق کا ذکر پہلے پہل سید رشید رضانے المنار کے صفحات پر کیا تھا جس کو محمود ابوریہ نے اپنی کتاب میں دہرایا ہے لیکن ان دونوں کی تحریروں میں حدیث اور سنت کے فرق کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی ہے کہ اس کو موضوع بحث بنایا جائے محمود ابوریہ نے اس مسئلہ میں جو کچھ لکھا ہے وہ المنار میں رشید رضا کے قلم سے لکھے جانے والے مضامین کا چربہ ہے ، اور رشید رضانے بھی جو کچھ لکھا تھا وہ دراصل ان افکار کا اعادہ ہے جو بعض فقہاء اور اصولیوں نے کتاب و سنت کی تشریعی حیثیتوں میں درجہ بندی سے متعلق ظاہر کئے ہیں مثال کے طور پر ابوریہ نے اپنی [1] ص ۲۸