کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 451
’’درحقیقت اللہ نے اس وقت مومنین پر احسان فرمایا جب اس نے ان کے اندر انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے چوتھی بار یہی آیت سورۃ جمعہ میں دہرائی ہے جہاں ’’ مومنین‘‘ کے بجائے ’’امیین‘‘ فرما کر یہ تعین کردیا ہے کہ جن لوگوں میں اس نے اپنا آخری رسول مبعوث فرمایا وہ بنو اسماعیل ہیں اور خود رسول بھی انہی میں سے ایک ہے ، ارشاد الٰہی ہے : ﴿ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ ﴾ (الجمعہ:۲) ’’وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک ایسا رسول اٹھایا جو ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ درحقیقت یہ لوگ اس سے قبل کھلی گمراہی میں مبتلا تھے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں تعلیم کتاب و حکمت ’’یقینا تلاوتِ آیات ‘‘کے علاوہ ہے رہی تعلیم کتاب و حکمت ‘‘ تو اس میں تعلیم کتاب بھی واضح ہے ، البتہ حکمت کے تعین میں مفسرین کا اختلاف ہے اور ا س کے جو معانی مفسرین سے منقول ہیں ان میں قابل ذکر معرفت دین تفقہ فی التاویل یعنی تاویل و تفسیر کی بصیرت ، فہم جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خصلت اور روشنی ہے سنت اور شریعتوں کا بیان ، اور حکم و فیصلہ [1]آیت کے اسلوب بیان اور کتاب و حکمت کو بذریعہ ’’واو‘‘ جمع کرنے اور سیرت پاک کے سنجیدہ مطالعہ کی روشنی میں حکمت کے مذکورہ معانی میں صرف سنت اور شرائع کا بیان ہی موقع و محل سے مناسبت رکھتا ہے ، اس موقع پر مذکورہ لفظ کے بارے میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے جو قرآنی اسلوب بیان، اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی پر گہرے غور و فکر کا ترجمان ہے فرماتے ہیں اللہ نے کتاب کے ساتھ جو قرآن ہے حکمت کا ذکر فرمایا ہے اور قرآن کا علم رکھنے والوں میں سے جن کے علم سے میں راضی ہوں ان سے میں نے سنا ہے کہ یہاں حکمت سے مراد سنت ہے۔ ’’اللہ تعالیٰ نے پہلے قرآن کا ذکر کیا ہے اس کے پیچھے حکمت کا اور اپنی مخلوق پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ رسول ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے لہٰذا یہاں حکمت سے سنت کے سوا کچھ اور مراد لینا درست نہیں ہے ۔ ’’یہاں حکمت کتاب اللہ کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور اللہ نے اپنے رسول کی اطاعت فرض قرار دی ہے اور [1] قرطبی ص:۴۶۹ ج:۱