کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 425
مان بھی لیا جائے کہ عام لوگ ان سے آگاہ تھے۔ معلوم ہوا کہ عملی طور پر قرآن اور حدیث دونوں کی حفاظت کا ذریعہ زبانی روایت ہی تھا ایسی صورت میں یہ دعویٰ کیا مضحکہ خیز نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ نہیں چاہتے تھے کہ ’’حدیث قرآن کی طرح مدون کی جائے اور اس کی طرح محفوظ رہے!!! ۲۔ مذکورہ بالا سلسلۂ کلام کے ضمن میں علامہ کشمیری نے حدیث کی عدم کتابت کے حکم نبوی سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ بات یہ بھی تھی کہ حدیث کو قرآن کی طرح قطعیت حاصل نہ ہو۔ سب سے پہلے معتزلہ نے حدیث کی ظنیت کا راگ الاپا جو ان کے بعد ان کی حفاظت کرنے والے اہل کلام اور معتزلہ کے طرز فکر پر عمل پیرا فقہائے احناف کو یہ ’’راگ بہت پسند آیا‘‘ جس کا اظہار وہ مختلف انداز سے کرتے رہتے ہیں ، علامہ کشمیری کی شرح صحیح بخاری، فیض الباری محدثانہ شرح نہیں ، بلکہ اعتزالی اور فلسفیانہ شرح ہے انہوں نے صحیح بخاری کی کتاب الایمان کے باب الایمان کے تحت ایمان کی تعریف میں جو کچھ فرمایا ہے وہ سارے کا سارا زمخشری کی کشاف سے ماخوذ ہے، ایک عظیم اور بے نظیر محدث کی حیثیت سے شہرت رکھنے والے علامہ کشمیری کی نظر اگر ایمانیات میں بھی ایک ایسے شخص کی تفسیر پر جا کر ٹک گئی جو معتزلہ کا امام تھا تو ان کے اس دعوی پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ’’خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں چاہتے تھے کہ حدیث کو قطعیت‘‘ کا درجہ حاصل ہو، البتہ اس بات پر حیرت ضرور ہے کہ اس کے باوجود ان کا وجود اسلام کے آسمانی اور برحق مذہب ہونے کی دلیل تھا۔‘‘ حدیث کی عدم کتابت سے اس کی عدم قطعیت پر استدلال نہ عقلی ہے اور نہ نقلی، کیونکہ کسی خبر کے قطعی اور یقینی ہونے کا مدار اس کے لکھی ہوئی ہونے پر قطعا نہیں ہے، بلکہ اس خبر کے نقل کرنے والے کے قابل اعتماد اور قابل بھروسہ ہونے پر ہے، اگر لکھی ہوئی خبر فی نفسہ جھوٹی اور بے بنیاد ہے تو اس کا لکھ لینا اس کو سچی نہیں بنا سکتا۔ پھر قرآن پاک کو بھی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے تحریری شکل میں نازل نہیں کیا تھا، بلکہ اس کو اپنے نبی کی زبان کے ذریعہ اپنے بندوں تک پہنچایا تھا اور صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر ہی اس کو لوگوں تک پہنچاتے تھے، پھر تین صدیوں تک قراء ہی کے ذریعہ قرآن کی منتقلی کا عمل جاری رہا اور قرآن کی ساتوں قرأتوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ صحابۂ کرام کے دور سے عصر تدوین تک قراء اپنے جن شیوخ سے فن قرأت سیکھتے تھے اولاً بذریعہ زبانی روایت ہی سیکھتے تھے، ثانیا ہر دور میں ان شیوخ کی تعداد دو یا تین سے زیادہ نہیں ہوتی تھی، البتہ اس عمل میں ہمیشہ غیر منقطع تسلسل جاری رہا۔ قرآن پاک کی اسی منتقلی کی طرح اور ٹھیک اس کے طرز پر روایت حدیث کا عمل بھی انجام پاتا تھا؛ حدیث کا ماخذ اول بھی زبان نبوت تھی اور اسے سن کر اپنے سینوں میں بسانے والے اور پھر اسے دوسروں تک منتقل کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہی جان نثار صحابی ہی تھے جو آپ سے قرآن سن کر دوسروں تک پہنچاتے تھے، قرآن و حدیث دونوں میں سے کوئی بھی تحریری شکل میں نہیں پھیلائی جاتی تھی اور اگر قرآن پاک یا حدیث کا جو مجموعہ لکھا بھی جاتا تھا تو اولاً وہ