کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 421
دیتے تھے اور جس طرح نازل ہوتا تھا اسی طرح قلم بند کر لیا جاتا تھا جو مخصوص طور پر کسی ایک صحابی کے ذمہ نہیں تھا۔ لیکن حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بحیثیت رسول، معلم، مربی، قدوہ، حاکم اور قاضی کے اقوال، افعال اور سیرت سے عبارت تھی جس کا نہ کوئی مخصوص موضوع تھا اور نہ یہی متعین تھا کہ آپ کب کیا فرمائیں گے،آپ کون سے اعمال انجام دیں گے، یا آپ کی سیرت پاک کا کون سا تابناک واقعہ ظہور پذیر ہو گا ایسی صورت میں آپ کی حیات پاک اور زمانے میں جمع حدیث یعنی کتابت حدیث کا یہ تقاضا تھا کہ ہر دن چوبیس گھنٹے آپ کے ساتھ کم سے کم پانچ سکریٹری رہیں جو فن کتابت کے ماہر ہوں اور آپ کے قول، فعل اور سیرت کے قبیل سے جو چیز بھی ظہور پذیر ہو اس کو فوراً ضبط تحریر میں لے آئیں ، کیا اس زمانے کے حالات کی روشنی میں کاتبین کی کثرت اور کتابت کے لیے استعمال کی جانے والی چیزوں کی فراوانی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود یہ چیز عملاً ممکن تھی؟ اور کیا حدیث کی حفاظت کے لیے اس کی ضرورت تھی؟ جبکہ اس کو سن کر اس کو اپنے لوح قلب پر نقش کرنے والے اس کو دوسروں تک من و عن پھیلانے اور منتقل کرنے کے لیے دل و جان سے تیار رہتے تھے اور جو ان کی زندگی کا محبوب ترین، عزیز ترین اور مرغوب ترین کام تھا۔ اگر حدیث کی حفاظت اور ضیاع سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے ضبط سینہ کے ساتھ ضبط سفینہ کی ضرورت بھی لازمی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یقینا اس کا کوئی نہ کوئی اتنظام فرما دیتا، اس لیے کہ اسلام کی بقا جس طرح قرآن کے حرف بحرف محفوظ رہنے پر منحصر اور موقوف ہے، ٹھیک اسی طرح اور اسی درجے میں حدیث کے حرف بحرف محفوظ رہنے اور کسی ایک بھی حدیث کے ضائع نہ ہونے پر منحصر اور موقوف ہے۔ اگر میرے اس دعوے کے خلاف کسی کے پاس قرآن سے کوئی واضح اور دو ٹوک دلیل نہ بھی ہو تو میں ایسی اشارتی دلیل کا بھی خیر مقدم کروں گا جس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ تشریعی اعتبار سے حدیث کا درجہ دوسرا ہے یا اس سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا یا وہ شکوک و شبہات سے پاک نہیں ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے حدیث کی محبت میں ’’مگرمچھ‘‘ کے آنسو بہاتے ہوئے یہ راگ الاپا ہے کہ حدیث کی جو قسم ’’اخبار احاد‘‘ سے عبارت ہے اس کو لکھنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ وہ قرآن کا درجہ نہ حاصل کرلیں گویا اخبار آحاد اور اخبار متواتر کا وجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی تھا!!! مولانا بدر عالم میرٹھی نے امام ابن تیمیہ کے اقوال سے متاثر ہو کر صحیح اور مبنی برحق بات کا اعلان کرتے ہوئے یہ فرما دیا کہ آغاز وحی میں حدیثیں قلم بند کرنے سے اس امر کا اندیشہ تھا کہ قرآن اور حدیث میں خلط ملط ہوجائے گا جیسا کہ سابقہ آسمانی کتابوں کے ساتھ ہوا کہ اللہ کے کلام میں ان کے انبیاء اور علماء کی باتیں مل گئیں اور دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا۔ مزید یہ کہ آغاز امر میں ماہر کاتبین کی قلت، بلکہ قدرت کے نتیجے میں احادیث کی کتابت میں غلطیوں کا امکان تھا اس لیے حدیثیں لکھنے سے منع کر دیا گیا۔ لیکن محدث کبیر جن کے وجود پر اسلام کی بقاء موقوف تھی اور جو اسلام کی حقانیت کی دلیل تھے، مولانا کشمیری نے جو