کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 392
بن معین، احمد بن حنبل، نسائی، دارقطنی، یحییٰ بن سعید اور قطان وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔[1] اس حدیث کے فقرہ: ((لا تسألوھم عن شئی…)) کو امام بخاری نے کتاب الاعتصام کے ۲۵ویں باب کا عنوان قرار دیا ہے۔[2] حافظ ابن حجر نے ((لا تسألوھم عن شئی…)) کو ترجمہ الباب قرار دینے کی وجہ یہ قرار دی ہے کہ صحیح حدیث سے اس کی صحت کی گواہی ملتی ہے۔ حافظ ابن حجر نے زیر بحث حدیث کے مذکورہ فقرے کی جن حدیثوں کو شاہد بتایا ہے ان میں سے ایک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کے الفاظ ہیں : ((لا تسألوا أھل الکتاب عن شَئی، فانھم لَن یھدوکم وقد ضلوا، أن تکذبوا الحق او تصدقوا بباطل)) ’’تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کچھ مت پوچھو، وہ تمہیں ہدایت نہیں دے سکتے وہ تو خود گمراہ ہو چکے ہیں ، اس طرح یا تو تم حق کی تکذیب کے مرتکب ہو جاؤ گے یا باطل کو سچ قرار دے بیٹھو گے۔‘‘ اس کی روایت عبد الرزاق نے مصنف میں کی ہے۔[3] لیکن اس کی سند میں شامل حریث بن ظہیر کے مجہول ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ مگر اس کی متابع وہ حدیث ہے جو طبرانی نے المعجم الکبیر میں کی ہے۔[4] جس کی سند کا ایک راوی عبد اللہ بن ہانی حریث ہی کے درجے کا ضعیف راوی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے متابع ہیں ۔ حریث بن ظہیر کی یہ حدیث ابن عبد البر نے بھی جامع بیان العلم میں روایت کی ہے۔[5] ابن حجر نے اسی متابعت کی وجہ سے اس حدیث کو ’’حسن‘‘ کا درجہ دیا ہے۔[6] مذکورہ فقرہ کی شاہد وہ حدیث بھی ہے جو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور جس کے الفاظ ہیں : ((کیف تسألون أھل الکتاب، وکتابُکم الذی أُنزِلَ علی نبیہ أحدثُ الأخبار باللّٰہ، تقرؤونہ لم یُشَب، وقد حدث اللّٰہ أن أھل الکتاب بدلوا ما کتب اللّٰہ وَغَیروا بأیدیھم الکتابَ، فقالوا: ھذا من عند اللّٰہ یشتروا بہ ثمناً قلیلاً‘‘ أفلا ینھَا کُم ما جاء کم من العلم عن مُسَائَ لتھم، ولا واللّٰہ ما رأینا منھم رَجُلاً قط یسألکم عن الذی أنزِلَ علیکم)) [7] ’’تم لوگ اہل کتاب سے سوال کس طرح کرتے ہو، جبکہ وہ کتاب جو اس کے نبی پرنازل کی گئی ہے اللہ کے [1] میزان الاعتدال، ترجمہ:۷۰۷۵۔ الجرح والتعدیل، ترجمہ:۱۶۵۳۔ تقریب التہذیب: ۶۴۷۸ [2] حدیث نمبر:۷۳۶۱ [3] نمبر:۱۹۲۱۲ [4] نمبر:۹۷۵۹ [5] نمبر:۷۷۷ [6] فتح الباری، ص:۳۲۸۷ ج۳ [7] بخاری:۲۶۸۵، ۷۳۶۳