کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 370
کچھ مخصوص تعداد اور خاص ھیئت اور شکل متعین کر لی گئی تھی اور لوگوں کو اس کا پابند بنا دیا گیا تھا؟ معلوم ہوا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جس کتاب یا صحیفہ کو جلا دینے اور ناپید کر دینے پر اس شدت سے زور دیا تھا اس میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم تحریر نہیں تھیں یا اس میں صرف ’’سبحان اللّٰہ والحمدللّٰہ اور ’’لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر‘‘ ہی لکھا ہوا نہیں تھا، بلکہ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں اس میں اس ذکر کے کچھ من گھڑت فضائل اور اجر و ثواب اور اس کو ادا کرنے کے کچھ مخصوص طریقے تحریر رہے ہوں گے اور ذکر اور عبادت اگر اللہ و رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہو تو وہ سراسر بدعت، فتنہ اور ضلالت ہے، اگرچہ بجائے خود ہر ذکر اور عبادت منصوص ہو۔ مذکورہ بالا تفصیلات سے ان دعوؤں کی حقیقت عیاں ہو گئی جو منکرین حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پاک میں اور عصر صحابہ میں حدیث کی کتابت کے ممنوع ہونے سے متعلق کرتے رہتے ہیں اسی طرح یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ کتابت حدیث کی ممانعت پر دلالت کرنے والی صرف ایک حدیث صحیح اور قابل اعتماد ہے یعنی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث اور یہ بھی جہاں مطلق ممانعت پر دلالت نہیں کرتی وہیں دوسری صحیح حدیثوں سے منسوخ بھی ہے۔ رہے آثار صحابہ جن سے ابوریہ نے حدیث کی کتابت کے ممنوع ہونے پر استدلال کیا ہے تو ان میں سے صرف عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اثر صحیح ہے، لیکن اس کا تعلق حدیث کی کتابت یا عدم کتابت سے نہیں ، بلکہ بدعات و منکرات پر عمل کرنے اور تحریری شکل میں ان کی ترویج کرنے کی نکارت سے ہے۔ کتابت حدیث کی رخصت واجازت: جہاں تک عصر صحابہ میں کتابت حدیث کے جواز یا عدم جواز کا مسئلہ ہے تو یہ بلاشبہ مختلف فیہ تھا، لیکن جو صحابہ احادیث کو ضبط تحریر میں لانے کے خلاف تھے یا اس کو مستحسن نہیں سمجھتے تھے وہ اس وجہ سے نہیں کہ نعوذ باللہ وہ حدیث یا سنت کو شرعی ماخذ نہیں مانتے تھے یا وہ قرآن پاک کے منصوص احکام کے مقابلے میں حدیث کے منصوص احکام کو کمتر تصور کرتے تھے، بلکہ ان کے اس موقف اور طرز عمل کا اصلی محرک یہ تھا کہ ان کی نظر میں حدیث کی کتابت کی صورت میں اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں خلط ملط ہونے کا اندیشہ تھا، ورنہ جہاں تک حدیث کی زبانی حفاظت کا معاملہ ہے تو اس سے ان کا اہتمام قرآن کی حفاظت سے ان کے اہتمام سے کم نہیں ، بلکہ عملی طور پر بڑھا ہوا تھا، چونکہ اللہ کی مرضی کے مطابق حدیث یا سنت کے بغیر قرآن پر عمل کرنا ناممکن تھا اور خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں متعدد مقامات پر اور نہایت واضح اور صریح لفظوں میں اپنی اطاعت کے ساتھ اپنے رسول کی اطاعت کو بھی بالکل مساوی درجہ میں فرض قرار دیا ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو عین اپنی اطاعت سے تعبیر کیا ہے۔ جو صحابۂ کرام کتابت حدیث کے مؤید تھے یا اس کے جواز کے قائل تھے ان میں سرفہرست عمر، علی، حسن بن علی،