کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 368
’’دراصل تم سے پہلے اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے علماء کی کتابوں کی طرف متوجہ ہو گئے اور اپنے رب کی کتاب چھوڑ بیٹھے۔‘‘ اس روایت پر غور کرنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مذکورہ صحیفہ میں کوئی ایسا کلام تھا جو خلاف شرع تھا جس کی تائید سنن دارمی کے فقرے ((کتب علمائھم)) سے بھی ہوتی ہے اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خلاف شرع اور دین میں نو ایجاد باتوں کے جس طرح خلاف تھے اس کی روشنی میں ان کا یہ طرز عمل بالکل قدرتی اور منطقی تھا۔ چنانچہ اسی سنن دارمی میں ابن مسعود کے شاگرد ابو الشعشاء سلیم بن اسود کے بیٹے اشعت سے بروایت شعبہ ایک واقعہ ان الفاظ میں منقول ہے: اشعت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ’’میں نے ایک شخص کے ساتھ ایک صحیفہ دیکھا جس میں ((سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر)) لکھا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا: اسے میرے لیے نقل کر دو، مجھے ایسا لگا کہ وہ اسے اپنے پاس ہی رکھنا چاہتا ہے، پھراس نے اسے مجھے دینے کا وعدہ کر لیا، اس کے بعد میں عبد اللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس صحیفہ کو ان کے سامنے پایا اور انہوں نے فرمایا: ((انما فی ھذا الکتاب بدعۃ وفتنۃ وضلالۃ، وانما أھلک من کان قبلکم ھذا واشباہ ھذا، انھم کتبوھا فاستلذتھا ألسنتھم وأُشربتھا قلوبھم، فأعزم علی کل امریٔ یعلم بمکان کتاب الا دل علیہ، وأقسم باللّٰہ لو أنھا ذکرت لہ بدار لھند یعنی مکانا بالکوفۃ بعیداً الا أتیتہ ولو مشیاً)) (۴۸۳) ’’درحقیقت اس کتاب میں بدعت، فتنہ اور گمراہی ہے اور تم سے پہلے کے لوگوں کو اسی چیز نے یا اس کی مانند چیزوں نے ہلاک کیا، انہوں نے اسے لکھا جس میں ان کی زبانوں نے چاشنی پائی اور ان کے دلوں نے اسے پی لیا، میں ہر اس شخص کو جس کو ایسی کسی کتاب کی جگہ معلوم ہو تاکیدی حکم دیتا ہوں کہ وہ اس کی نشاندہی کرے، اللہ کی قسم اگر ان سے دار ہند میں اس کے وجود کے بارے میں ذکر کیا گیا، یعنی کوفہ میں کسی دور دراز کے مقام پر تو وہ وہاں جائیں گے اگرچہ پیدل ہی جانا پڑے۔‘‘ اس واقعہ پر غور کرنے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس صحیفہ میں صرف مذکورہ کلمہ ہی نہیں تھا، جس میں خلاف شرع کوئی بات نہیں تھی اور نہ اس کو پڑھ کر اسے یاد کر لینا ہی دشوار تھا کہ وہ اس آدمی سے اس کی نقل کی درخواست کرتے، بلکہ اس کے پس پردہ اس میں اللہ کے ذکر سے متعلق دوسری گمراہ کن باتیں رہی ہوں گی، چنانچہ تصوف کی کتابوں میں قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے ثابت اوراد و اذکار کے پس پردہ کتنے من گھڑت اذکار اور ان کے طریقے اور ان کے جھوٹے اور من گھڑت فضائل بیان کیے گئے ہیں اس طرح کتاب و سنت میں منصوص نہ ہونے کی وجہ سے یہ تمام چیزیں بھی سراسر بدعت، فتنہ اور گمراہی میں تبدیل ہو گئی ہیں اس تناظر میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس کتاب یا