کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 366
بتحریقھا)) (ص:۲۶) ’’میں نے قاسم بن محمد سے درخواست کی کہ وہ مجھے حدیثیں املا کر ا دیں ، تو انہوں نے جواب دیا کہ عمر بن خطاب کے زمانے میں لکھی ہوئی حدیثوں کی کثرت ہو گئی تھی جس پر انہوں نے لوگوں سے یہ طلب کیا کہ وہ انہیں ان کے پاس لائین اور جب وہ ان کے پاس انہیں لائے تو انہوں نے ان کو جلا دینے کا حکم دے دیا۔‘‘ یہ روایت بھی منقطع ہے، کیونکہ قاسم بن محمد عمر رضی اللہ عنہ کی وفات (۲۳ھ) کے کوئی پندرہ برس بعد (۳۸ھ) پیدا ہوئے۔ ۵۔ پانچواں اثر: محمود ابوریہ نے اسی صفحہ پر جابر بن عبد اللہ بن یسار سے مروی ایک اثر کا ذکر کیا ہے جس کے الفاظ ہیں : ((سمعت علیا یخطب یقول: أعزم علی کل من عندہ کتاب الا رجع فمحاہ، فانما ھلک الناس حین تتبعوا أحادیث علمائھم وترکوا کتاب ربھم)) ’’میں نے علی رضی اللہ عنہ کو خطبہ میں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میں ہر اس شخص کو یہ تاکیدی حکم دیتا ہوں کہ جس کے پاس حدیث کی کتاب ہو وہ واپس جائے اور اسے مٹا دے، کیونکہ اس وقت لوگ ہلاکت میں پڑ گئے جب وہ اپنے علماء کی باتوں کے پیچھے لگ گئے اور اپنے رب کی کتاب سے کنارہ کش ہو گئے۔‘‘ یہ اثر حافظ بن عبد البر نے جامع بیان العلم میں [1] اور حافظ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں [2] نقل کیا ہے، اس پر علامہ عبد الرحمن بن یحییٰ معلمی تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : مجھے جابر بن عبد اللہ بن یسار کا کوئی ذکر کتابوں میں نہیں ملا، جبکہ صاحب تہذیب نے شعبہ کے تذکرے کے ضمن میں ان کے تمام شیوخ کا ذکر کر دیا ہے اور ان میں جابر نام کا صرف جابر بن یزید جعفی ہے، لہٰذا صحیح سند یوں ہے: جابر عن عبد اللہ بن یسار‘‘ اور جابر جعفی مبغوض تھا اور وہ علی رضی اللہ عنہ کی دنیا میں دوبارہ واپسی کا عقیدہ رکھتا تھا، متعدد ائمہ نے اس کی تکذیب کی ہے جن میں سے ایک ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی ہیں ، رہا عبد اللہ بن یسار تو غیر معروف شخص ہے۔‘‘[3] بیشتر محدثین اور فقہاء نے جابر جعفی کو جھوٹا قرار دیا ہے اور امام ابو حنیفہ کا قول ہے: میں نے عطاء سے زیادہ بہتر اور جابر جعفی سے بڑا جھوٹا نہیں دیکھا ہے، میں اس کے پاس جو مسئلہ لے کر گیا اس نے اس کے بارے میں کوئی حدیث بیان کر دی۔[4] مذکورہ بالا وضاحتوں سے یہ معلوم ہوا کہ یہ اثر ناقابل اعتماد ہے، پھر اس اثر میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف جو قول منسوب ہے اس میں انہوں نے ((احادیث علمائھم)) کی تعبیر اختیار فرمائی ہے، ((احادیث انبیائھم)) کی [1] نمبر ۲۳۱ [2] نمبر ۲۶۴۳۹ [3] الأنوار، ص:۵۱ [4] میزان الاعتدال، ص:۱۰۴،ج۱، ترجمہ:۱۴۲۷