کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 360
دیا، اس پر زید نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں یہ سن کر انہوں نے وہ تحریر مٹا دی۔‘‘ یہ حدیث ناقابل استدلال ہے، کیونکہ کثیر بن زید کی ثقاھت مختلف فیہ ہے اور مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کی زید بن ثابت سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔[1] یہی دو حدیثیں ایسی ہیں جن میں حدیث کی کتابت سے صریح لفظوں میں منع کیا گیا ہے؛ پہلی حدیث جس کے راوی ابو سعید خدری ہیں وہ صحیح ہے، مگر دوسری صحیح حدیثوں سے منسوخ ہے یا مطلق ممانعت پر دلالت نہیں کرتی جیسا کہ سابقہ سطروں میں مثالوں سے واضح کیا جا چکا ہے اور یہ دوسری حدیث ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل استدلال ہے۔ صحیفہ علی رضی اللہ عنہ : کتابت حدیث کے ممنوع عام نہ ہونے کی ایک نہایت قوی دلیل وہ روایت بھی ہے جو ابو جحیفہ… وہب بن عبد اللہ سوائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور جس کو امام بخاری نے باب کتابۃ العلم کے تحت نقل کیا ہے، اس کے الفاظ ہیں : ((قلتُ لعلی: ھل عندکم کتابٌ؟ قال: لا، الا کتاب اللّّّٰہ، أوفھم أُعطِیہ رجلٌ مسلم، أو مافی ھذہ الصحیفۃ، قال: قلت: فما فی ھذہ الصحیفۃ؟ قال: العقل وفکاک الأسیر، ولا یقتل مسلم بکافِر)) [2] ’’میں نے علی سے عرض کیا: کیا آپ کے پاس کوئی لکھی ہو ئی چیز ہے؟ فرمایا: نہیں ، سوائے اللہ کی کتاب کے، یا اس فہم کے جو ایک مسلمان مرد کو عطا کی جاتی ہے، یا جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ ابو جحیفہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت، قیدی کی رہائی اور یہ کہ کافر کے بدلے مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا۔‘‘ صحیح مسلم میں یہ حدیث خاصی طویل ہے اور اس میں اس کے اجمال کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں ، دیت اور قیدی کی رہائی سے مراد ان کے احکام کا بیان ہے۔ یہ روایت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں کتابت حدیث کی ممانعت کا حکم عام نہیں تھا ورنہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم رضی اللہ عنہ کی زبان مبارک سے سن کر مذکورہ صحیفے میں دیت، قیدی کی رہائی، حرمت مدینہ کی حدود اور غیر مسلم کے بدلے مسلمان کے عدم قتل یا قصاص کے احکام قلم بند نہ کیے ہوتے۔ آثار صحابہ محمود ابوریہ نے کتابت حدیث کی ممانعت کی تائید میں آثار صحابہ سے بھی استدلال کیا ہے اس عنوان کے تحت [1] میزان الاعتدال، ص:۴۸۹ج۵و جامع بیان العلم، ص:۱۳۰ ج۱ [2] بخاری:۱۱۱۔ مسلم:۱۳۷۰