کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 348
اہتمام نہیں برتا گیا ہے جو قرآن کی حفاظت کے لیے برتا گیا، محمود ابوریہ نے اپنے اس دعوے پر یہ دلیل پیش کی ہے کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قراء کے بکثرت شہادت پا جانے پر عمر رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے اور خلیفۂ اول ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ مشورہ دیا کہ قرآن کو قراء کے سینوں سے نکال کر صفحۂ قرطاس پر ثبت کر دیا جائے، کیونکہ اگر قراء کی شہادت کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اندیشہ ہے کہ قرآن ضائع نہ ہو جائے، ابوریہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس طرح کا اندیشہ حدیث کے ضائع ہونے کا ظاہر نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حدیث کو وہ مقام اور درجہ نہیں حاصل تھا جو قرآن کو حاصل تھا۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد حدیثوں میں حدیثیں لکھنے اور ضبط تحریر میں لانے سے منع بھی کر دیا تھا۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو اس کی وضاحت سطور بالا میں کسی حد تک کی جا چکی ہے موقع کی مناسبت سے عرض ہے کہ قرآن پاک کے قراء کی تعداد عام صحابۂ کرام کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم یا معدودے چند ہی تھی، قراء سے میری مراد وہ صحابۂ کرام ہیں جن کو قرآن کے زیادہ اجزاء زبانی یاد تھے قطع نظر اس کے کہ ان اجزاء کی کتنی مقدار تھی اس کی دلیل یہ ہے کہ نماز میں امامت کا زیادہ حق دار وہ شخص ہوتا تھا جو موقع پر موجود لوگوں میں قرآن کے زیادہ اجزاء کا حافظ ہو، چنانچہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((یؤم القوم أقرؤْھم لکتاب اللّٰہ، فان کانوا فی القرأۃ سوائً، فأعلھم بالسنۃ)) [1] ’’جماعت کی امامت وہ کرے جو اس میں کتاب اللہ کا زیادہ حافظ ہو، اور اگر قرأت میں وہ برابر ہوں تو امامت وہ کرے جس کو ان میں سنت کا زیادہ علم ہو۔‘‘ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((اذا کانوا ثلاثۃ، فلیؤمھم أحدھم، وأحقھم بالامامۃ أقرؤْھم)) [2] ’’اگرنمازی تین ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے اور ان میں امامت کا زیادہ حق دار وہ ہے جو ان میں زیادہ حافظ قرآن ہو۔‘‘ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ((لما قدم المہاجرون الأولون نزلوا العصبۃ۔ موضعا بقباء قبل مقدم النبی صلي اللّٰه عليه وسلم ، کان یؤمھم سالم مولی أبی حذیفۃ، وکان اکثرھم قرآنًا، وکان فیھم عمر بن الخطاب وأبو سلمۃ بن عبد الأسد)) [3] [1] مسلم:۶۷۳۔ ابو داود:۵۸۲ [2] مسلم:۶۷۲، نسائی:۷۸۱ [3] بخاری:۶۹۲۔ ابو داود:۵۸۵