کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 344
لوگ اس سے زیادہ آسان اور عام فہم باتیں ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سننے، سمجھنے اور دوسروں کو نقل کرنے میں غلطی کر جاتے تھے؟ یہاں یہ ہرزہ سرائی نہیں چلے گی کہ قرآن کلام ربانی اور حدیث کلام انسانی ہے اور اللہ اور اس کے رسول اور کلام الٰہی اور کلام نبوی میں جو فرق ہے وہ مسلم اور ناقابل انکار ہے، بلکہ یہاں یہ دیکھا جائے گا کہ قرآن کے نازل کرنے والے نے اپنی کتاب کی تلاوت اور اپنی کتاب اور اس کے ساتھ اپنے رسول کی حدیث… حکمت… کی تعلیم کو ایک ہی درجہ میں رکھا ہے یا نہیں ، اور کیا جس طرح قرآن میں قصداً تحریف کرنا اور غلط بیانی کرنا حرام اور موجب جہنم ہے اسی طرح اس کے رسول کے کلام میں قصداً تحریف کرنا اور اس کی نقل اور روایت میں غلط بیانی کرنا بھی حرام اور موجب جہنم نہیں ہے؟ یہاں یہ حجت بھی نہیں سنی جائے گی کہ قرآن کی منتقلی تواتر سے ہوئی ہے، جبکہ حدیث کی روایت کو تواتر کا درجہ حاصل نہیں ہے، کیونکہ یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ پورے قرآن کے حفاظ بمشکل انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے، البتہ متفرق شکل میں پورا قرآن صحابہ کے سینوں میں محفوظ تھا، لیکن ہر آیت اور ہر سورت کے راویوں کی تعداد متواتر نہیں تھی، اس کے باوجود پورے قرآن کو بلا کسی تفریق کے قطعیت حاصل ہے۔ رہی حدیث تو وہ اپنی تمام قسموں کے ساتھ بحرناپیدکنار ہے، ساری حدیثوں کا علم رکھنا اور ان کو حافظہ میں محفوظ رکھنا کسی ایک شخص کے بس میں کیا، چند اشخاص کے بس میں بھی نہیں تھا، البتہ تمام حدیثیں چاہے وہ قولی ہوں ، یا فعلی یا تقریری متفرق شکل میں اسی طرح صحابۂ کرام کے سینوں میں محفوظ تھیں جس طرح قرآن محفوظ تھا، کیونکہ قرآن کے مطابق دونوں یکساں درجہ میں ہدایت نامہ تھے اور دونوں پر یکساں درجے میں عمل کرنا فرض تھا، فرض ہے اور فرض رہے گا،، دونوں میں یکساں درجے میں ز ندگی کا سامان ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کا انکار دوسرے کابھی انکار ہے اور دونوں کے راوی اور ناقل اول صحابہ کرام تھے، پھر دونوں کے یکساں درجہ میں محفوط ہونے میں تفریق یا شک کیوں ؟ صحابہ کے حسن سماع کی ایک روشن مثال: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں : ((کَنت مع عمی، فَسَمِعتُ عبدَ اللّٰہ بن أبَی بن سلول یقول: لا تُنفقوا علی من عند رسول اللّٰہ حَتّی ینفضُّوا، وقال أیضا: لئن رجعنا الی المدینۃ لَیُخرِجن الأعز منھا الأذلَّ، فذکرتُ ذلک لعمی، فذکر عمی لرسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم ، فأرسل رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم الی عبد اللّٰہ بن أبی وأصحابہ، فحلفوا ما قالوا، فصدقھم رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم وکذَّبنی، فأصابنی ھَمٌّ لم یُصبنی مِثلُہ، فجلست فی بیتی، فأنزل اللّٰہ عزوجل: