کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 316
اس کی روایت کردہ حدیث یقینی علم دینے کی بجائے’’ظن ‘‘۔ بمعنی گمان، خیال اور وہم۔ پردلالت کرنے لگتی ہے، اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے فاسق کی دی ہوئی خبر کی تحقیق کا حکم دیتے ہوئے یہ بھی فرمادیا ہوتا کہ اگر خبر دینے والا صرف ایک ہو تو اس کی دی ہوئی خبر کو رد کردو۔ اوپر اہل باطل کے افکار و عقائد سے متعلق قرآن پاک کی جو چار آیتیں پیش کی گئی ہیں ان میں ان افکار و عقائد کی تعبیر’’ظن ‘‘ سے اس لیے کی گئی ہے کہ ان کے پیچھے کوئی ٹھوس دلیل اور برھان نہیں ہے اس کے بر عکس اہل حق اور نبی کے پیرؤوں کے اس عقیدے کو جوان کو لقائے الٰہی کے بارے میں تھا’’ظن ‘‘ بمعنی یقین کہا گیا ہے اس لیے کہ یہ عقیدہ وحی الٰہی سے حاصل ہونے والے علم پر مبنی تھا۔ اسی طرح حدیث سے حاصل ہونے والا علم یقینی علم ہے، کیونکہ اس کی روایت’’سماع ‘‘ پر مبنی ہے اور یہ معلوم ہے کہ’’سماع ‘‘ یقینی ذریعہ علم ہے اور راوی مروی عنہ سے براہ راست حدیث سن کر اس کی روایت کرتا ہے، پھر روایت حدیث کا یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے ایسی صورت میں حدیث کی صحت میں ظنیت یا عدم یقین کی صفت اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب سلسلۂ رواۃ میں کوئی ایسا شخص شامل ہوگیا ہو جو حدیث کی روایت میں قابل بھروسہ نہ ہو تو اس احتمال کا خاتمہ راوی کے عدل اور ضابط ہونے کی لازمی شرط لگا کر کردیا گیا۔ بعض منکرین حدیث کا دعویٰ ہے کہ کسی شخص کے کردار کا تعین کرنا کوئی آسان کا م نہیں ہوتا، کردار کی تمام پرتوں سے آگاہی انسانی بس سے باہر ہے۔ [1]بلا شبہ یہ کام آسان نہیں تھا، مگر محال بھی نہیں تھا اور محدثین نے راویوں کی عدالت وامانت کا حکم ایک ایک راوی کے حالات کو سن کر، جانچ کر اور مشاہدہ کر کے لگایا ہے اور ایسا کرنا مشکل، محنت طلب اور دشوار تو ضرور تھا مگر نا ممکن اور محال نہ تھا، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ بعثت سے بہت پہلے قریش مکہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کے القاب دے رکھے تھے، جبکہ صداقت وامانت کے بارے میں نہ وہ کوئی دینی عقیدہ ہی رکھتے تھے اور نہ ان سے اجتماعی شکل میں موصوف ہی تھے اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے نزول کی سرگزشت سن کر آپ کے جو اوصاف بیان کیے تھے وہ کمال انسانی کی علامت تو ضرور تھے، لیکن ام المومنین کے پاس ایسا کوئی ذریعۂ علم نہیں تھا جس میں ان اوصاف کو ایک کامل انسان کے اوصاف قرار دیاگیا ہو، تو پھر علمائے رجا ل کی طرف سے’’رجال حدیث ‘‘ کے عدل و ضابط ہونے اور عدل وضابط نہ ہونے کا حکم لگانے پر حیرت و تعجب کیوں ، جبکہ اس عمل کے پیچھے دینی جذبہ، شب بیداری اور جہد مسلسل بھی رہی ہو۔ میں یہ عرض کررہا تھا کہ روایت حدیث سماع پر مبنی ہے اور سماع یقینی ذریعۂ علم ہے سماع کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پا ک کا نزول ہمیشہ حالت بیداری میں ہوتا تھا اور اسے لے کر نازل [1] ڈاکٹر افتخار برنی، روشنی ۲۹ مئی ۲۰۰۹ء