کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 302
’’شیخین وغیرہ کی روایت کردہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث مسلم میں ان الفاظ میں آئی ہے: ((کل بنی آدم یمسہ الشیطان یو م ولدتہ امہ الا مریم وابنھا)) ’’ہر بنی آدم کو شیطان اس وقت چھوتا ہے جب اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے، سوائے مریم اور ان کے بیٹے ‘‘ بیضاوی نے مس ’’کی تفسیر گمراہ کرنے کی خواہش اور حرص ‘‘ سے کی ہے اور استاد امام۔ محمد عبدہ۔ کا قول ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو یہ تمثیل ہے، حقیقت کا بیان نہیں ہے اور شاید بیضاوی کا بھی یہی خیال ہے! رشیدرضا کہتے ہیں کہ حدیث کے صحیح الاسناد ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ایک پہلو سے شق صدر اور دل کو دھونے والی حدیث اس کی شاہد ہے جس کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے شیطان کا حصہ نکال دینے کے بعد اس کو دھو دیا گیا، یہ تمثیل ہونے میں بالکل واضح ہے، شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ شیطان کے لیے آپ کے قلب مبارک میں وسوسہ اندازی کرنے کا کوئی موقع نہ رہا، جیسا کہ آپ نے اپنے ساتھ متعین شیطان کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ نے مجھے اس پر قوت بخشی ہے اور وہ میرا مطیع و فرمان ہوگیا ہے یا مسلم کی روایت کے مطابق’’مجھے صرف خیر کا حکم دیتا ہے۔‘‘ رشید رضا آگے لکھتے ہیں : ہمارے نزدیک جو بات مسلم ہے وہ یہ کہ شیطان کو اللہ کے برگزیدہ بندوں پر کوئی تسلط حاصل نہیں ہے اور اللہ کے برگزیدہ بندوں میں سب سے بہتر انبیاء اور رسول ہیں ، اب رہی وہ بات جو مریم و عیسیٰ کی حدیث میں آئی ہے کہ شیطان نے ان کو نہیں چھوا، اسی طرح شیطان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع فرمان ہونے والی حدیث اور آپ کے قلب سے شیطان کے حصہ کے نکال دینے والی حدیث تو یہ سب ظنی خبریں ہیں ، کیونکہ یہ روایات آحاد ہیں اور جبکہ ان روایتوں کا موضوع عالم الغیب سے تعلق رکھتا ہے اور’’ایمان بالغیب ‘‘ عقائد میں شمار ہوتا ہے اس لیے عقائد اور ایمانیات کے مسئلہ میں ظن وگمان کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ، ارشاد الٰہی ہے: ﴿ان الظن لا یغنی من الحق شئیا﴾ ’’اور ہم پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ عقائد کے بارے میں ان حدیثوں کے مضمون پر یقین کریں ‘‘ ’’بعض اہل علم کا قول ہے کہ عقائد کے مسئلہ میں انہی کے نزدیک’’احادیث آحاد ‘‘ کو قبول کیا جا سکتا ہے جن کے نزدیک وہ صحیح ہیں اور ان احادیث کے بارے میں سلف کا مسلک یہ رہا ہے کہ ان کی کیفیت کا علم اللہ کے حوالہ کردیا جائے ‘‘شیخ غزالی نے رشید رضا کی عبارت نقل کرنے کے بعد اس پر جو تبصرہ کیا ہے اس سے حدیث کے بارے میں ان کا’’خبث باطن ‘‘ عیاں ہوگیا ہے، فرماتے ہیں :’’سلف کا مسلک اگرچہ مجھے محبوب ہے، مگر اعدائے اسلام کی مزاحمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مزید ہوشیار اور بیدار رہیں ، میں یہ نہیں چاہتا کہ شیطان کے جسم انسانی پرقبضہ کے نام سے شعبدہ بازی، جادوگری اور دجل وفریب کے دروازے کھولوں ۔‘‘[1] [1] ص ۱۱۹۔ ۱۲۰