کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 298
والے بچے کے رحم مادر سے نکلنے سے چند لمحے پہلے شیطان اس کے پہلو میں اپنی انگلیوں سے کچو کا لگاتا ہے، اس عمل سے اگر کوئی محفوظ رہا ہے تو وہ عیسیٰ اور ان کی ماں مریم علیہما السلام تھیں ، تینوں مقامات پر یہ حدیث مختلف سندوں سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: امام بخاری پہلی حدیث کتاب بدء الخلق کے باب’’ صفۃ ابلیس وجنودہ ‘‘ کے تحت لائے ہیں ، دوسری حدیث کتاب احادیث الانبیاء کے باب قولہ تعالیٰ: ﴿واذکر فی الکتاب مریم اذانتبذت من أھلھا مکانا شرقیا﴾ کے تحت اور تیسری حدیث کتاب التفسیرباب((انی اعیذ ھابک وذریتھا من الشیطان الرجیم)) کے تحت ۔ میں ذیل میں پہلی حدیث کی سند اور متن درج کررہا ہوں جس کے بعد دوسری دونوں حدیثوں کا ترجمہ پیش کرنے پر اکتفا کروں گا تا کہ اس طرح اس حدیث کی صحت پر قدیم زمانے سے اب تک اعتراض کرنے والوں کے دعادی اور نقطہ ہائے نظر کو سمجھنا آسان رہے اور میں ان کے جواب میں جو کچھ عرض کروں اس کی قدروقیمت کا صحیح اندازہ کیا جاسکے۔ بخاری کتاب بدء الخلق کے باب صفۃ ابلیس وجنودہ(آغاز آفرنشن کی کتاب کے باب ابلیس اور اس کے لشکروں کی صفت) کے تحت مسلسل۲۷ حدیثیں لائے ہیں جن میں اولاد آدم کے نومولودوں یا قریب الولادت بچوں کو شیطان کے چھونے اور ان کے پہلوں میں انگلیوں سے کچو کا لگانے کی حدیث۱۹ویں ہے: ((حدثنا ابو الیمان: اخبرنا شعیب، عن ابی الزناد، عن الاعرج، عن ابی ھریرۃ قال، قال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم: کل بنی آدم یطعن شیطان فی جنبیہ بإصبعیہ حین یولد، غیر عیسی ابن مریم، ذھب یطعن فطعن فی الحجاب۔))[1] ’’ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، کہا: ہم کو شعیب نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہر بنی آدم جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں میں اپنی انگلیوں سے کچوکا لگاتا ہے سوائے عیسیٰ ابن مریم کے کہ جب وہ ان کو کچوکا لگانے لگا تو اس نے غلاف پر کچوکا لگا دیا۔ دوسري حدیث:…ہم سے ابو یمان نے بیان کیا، کہا: ہم کو شعیب نے زہری سے روایت کرتے ہوئے خبردی، انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا ، کہا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: اولاد آدم میں سے کوئی بھی نومولود ایسا نہیں ہے مگر شیطان اس کی پیدائش کے وقت اس کو چھوتا ہے تو وہ شیطان کے اس مس اور چھونے کی وجہ سے زور سے چیخ پڑتا ہے، سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے۔ [2] یہ حدیث روایت کرنے کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھا کرتے تھے: [1] ۳۲۸۶۔ مسلم: ۲۳۶۶۔ [2] بخاری:۳۴۳۱۔ مسلم: ۳۴۶۶۔۱۴۶۔