کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 288
مسئلہ میں قرآن وحدیث میں کوئی معمولی سا بھی تعارض نہیں ہے، لیکن انہوں نے آزادی عمل پر دلالت کرنے والی تو متعدد آیتیں نقل کر دیں ، مگر سورہ انفال کی آیت یا اس آیت کی طرف اشارہ تک نہیں کیا، کیونکہ اس سے ان کا یہ دعوی غلط ثابت ہو جاتا کہ یہ حدیث اپنے قریبی مفہوم میں کتاب وسنت کے خلاف ہے اور مردود ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حدیث کی شرعی حیثیت کا انکار کرنے والے اس حیثیت کو مشکوک قرار دینے والے اپنی بحث وتحقیق میں مخلص اور سنجیدہ نہیں ہوتے، بہرحال میں نے جس دوسری آیت کی جانب اشارہ کیا ہے وہ درج ذیل ہے: ﴿ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُؤْمِنٌ وَّاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴾ (التغابن: ۲) ’’وہی تو ہے جس نے تم لوگوں کو پیدا کیا ہے، پس تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ یہ آیت بادی النظر میں حدیث کی طرح، بلکہ اس سے زیادہ اس امر کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ انسان اپنی خلقت کے اعتبار ہی سے کافر یا مومن ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاں اپنے اسلوب بیان اور سیاق وسباق کی روشنی میں یہ آیت ایمان وکفر کو انسان کا اختیاری فعل قرار دیتی ہے، اگرچہ ایمان وکفر کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے وہیں قرآن پاک کی دوسری آیات یہ تصریح کرتی ہیں کہ انسان فطرت اسلام یا فطرت توحید پر پیدا کیا گیا ہے۔ جہاں تک آیت کے سیاق وسباق اور اسلوب بیان کا تعلق ہے تو آیت نمبر ۱ یہ صراحت کر رہی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر مخلوق اللہ کی تسبیح کر رہی ہے، حقیقی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، تعریف کا مستحق تنہا وہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات کے صرف اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ سب اس کی مطیع وفرمان ہیں اور ان کی یہ اطاعت اختیار نہیں تکوینی ہے: ﴿اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْہًا وَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ﴾ (آل عمران: ۸۳) ’’کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں ، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ہر مخلوق چارو ناچار اس کی تابع فرمان ہے اور وہ سب اسی کی طرف پلٹائے جائیں گے۔‘‘ رہا آیت کا اسلوب بیان تو اس کے فقرہ، ’’ہوالذی خلقکم‘‘ پر حرف ’’فاء تعقیبی‘‘ کے ذریعہ بعد کے فقرہ کا عطف اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انسانوں کا کافر یا مومن بننا ان کا اختیاری فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسری مخلوقات کی طرح تکوینی طور پر مجبور نہیں کیا ہے۔ ابھی جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس کو سورہ روم کی تیسویں آیت سے سمجھئے، ارشاد ربانی ہے: ﴿فَاَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ