کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 283
اس کے برعکس ابو الانسان آدم علیہ السلام کی تخلیق کے جو واقعات قرآن میں بیان ہوئے ہیں ان کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پہلے ہی دن کامل الخلقت اور مکمل انسان کی صورت میں وجود بخشا تھا، ارشاد الٰہی ہے: ﴿وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ، فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ﴾ (الحجر: ۲۸۔۲۹) ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا تھا کہ در حقیقت میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں ، تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اس کا سجدہ کرتے ہوئے گر جانا۔‘‘ ارشاد ربانی: ’’فإذا سویتہ‘‘ میں آدم علیہ السلام کی مکمل خلقت اور مکمل صورت دونوں داخل ہیں یعنی وہ تخلیق کے ان مراحل سے نہیں گزرے جن سے ان کی اولاد گزرتی ہے۔ اس طرح یہ آیت مبارکہ صحیحین میں مروی حدیث ’’خلق اللّٰه آدم علی صورتہ‘‘ اللہ نے آدم کو ان کی صورت پر پیدا کیا، میں مضاف الیہ ضیر ’’صورتہ‘‘ کا مرجع یقینی طور پر آدم علیہ السلام کو قرار دے دیتی ہے اور اس مسئلہ میں تمام اختلافات کا خاتمہ کر دیتی ہے، ویسے خود حدیث کا فقرہ وطولہ ستون زراعاً اور ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ’’صورتہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع آدم علیہ السلام ہیں ورنہ یہ لازم آئے گا کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ اپنی صورت میں آدم کی صورت سے مشابہ ہے اور اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ ہے یہ ایک ضمنی بات تھی جس کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔ [1] روح مخلوق ہے اللہ تعالیٰ کی صفت نہیں ہے، آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اضافت خالق کی طرف مخلوق کی اضافت تکریمی ہے، جیسے متعدد احادیث قدسی میں ارضی وسمائی وبیتی دناقۃ اللہ اور شہر اللہ کی اضافتیں ہیں ۔ زیر نظر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحم مادر میں ہر جنین پر چار ماہ کی مدت گزر جانے پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے حق میں مخصوص فرشتے کے جن چار چیزوں کے لکھنے کی خبر دی ہے ان میں ہر انسان کے اختیاری اور غیر اختیاری تمام اعمال کو سمیٹ دیا گیا ہے۔ دوسری صحیح احادیث میں جہاں ان چار چیزوں کی ترتیب میں اختلاف ہے وہیں ان میں کچھ چیزوں کے اضافے بھی ہیں جو ان کے دائرے سے خارج نہیں ہیں خود قرآن پاک میں اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ تمام احادیث کو سامنے رکھ کر انسان سے وابستہ جو اعمال غیر اختیاری ہیں ان میں اس کی پیدائش، وفات، جنس یعنی نر ہوگا یا مادہ، اس کی دراز قامتی اور پست قامتی، اس کا رنگ، اور خوبصورتی اور بدصورتی وغیرہ داخل ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کے نوشتہ تقدیر میں اس کے لیے جو رزق لکھ دیا گیا ہے اس میں وہ کمی بیشی نہیں کر سکتا اور اس مسئلہ میں لوگوں میں جو فرق مراتب ہے اس میں بھی کوئی انسان کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا: [1] ملاحظہ ہو صحیح بخاری حدیث نمبر ۳۳۲۶، ۶۲۲۷، مسلم: ۲۶۱۲، ۲۸۴۱۔