کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 253
اس سلسلہ کے ضمن میں مزید ایک بات کی طرف اشارہ کر دوں کہ قرآن پاک کی سورہ زمر میں انسانی جنین کے تین تاریکیوں میں تخلیق پانے کی جو حقیقت بیان ہوئی ہے ان میں سے پیٹ اور رحم کی تاریکیاں ہمارے مفسرین کو معلوم تھیں ، مگر تیسری تاریکی ’’مشیمہ‘‘ کا انکشاف ستر برس پہلے ہوا ہے جس سے مراد وہ جھلی ہے جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے یہ قرآنی اعجاز کی نئی دلیل ہے جس کا انکشاف سائنس نے کیا ہے۔ سترہویں حدیث:… قضا وقدر: غزالی کا خلط مبحث: میں پہلے کسی جگہ یہ لکھ چکا ہوں کہ شیخ غزالی قرآن کو سمجھتے تھے، وہ صحیح اسلامی عقائد سے بھی واقف تھے اور ان کو یہ بھی پتہ تھا کہ قرآنی آیات اور صحیح احادیث میں نہ کوئی تعارض ہے اور نہ ہو سکتا ہے، کیونکہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہی یعنی وحی الٰہی ہے، لیکن اپنی آخری عمر میں معتزلہ کے افکار سے متاثر ہو جانے اور حدیث کے قبول و رد میں عقل کے غیر معمول استعمال اور علم حدیث سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی آخری کتاب: السنۃ النبویۃ بین اہل الفقہ واہل الحدیث میں محدثین کا تذکرہ اپنے حریف کے طور پر اور حدیث کا مطالعہ راویوں کے اوھام وخیالات کے مجمو عہ کے اعتبار سے کیا ہے، اور صرف انہی حدیثوں کو در خور اعتنا سمجھا اور مانا ہے جو ان کے افکار ونظریات سے ہم آہنگ ہوں قطع نظر اس کے کہ محدثین کے اصولوں کی روشنی میں ان کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ہے یا نہیں ـ، چونکہ حدیث کی صحت وعدم صحت کو جانچنے کا ان کا اپنا معیار ہے جو سو فیصد معتزلہ کے معیار کے مطابق ہے اس لیے کبھی تو وہ حدیث کو قرآن کے خلاف ہونے کا دعوی کرکے رد کر دیتے ہیں ، جبکہ وہ قرآن کے خلاف نہیں ، بلکہ ان کی تفسیر قرآن یا ان کے ہم مشرب بعض فقہاء کی تفسیروں کے خلاف ہوتی ہے اور کبھی صحیح احادیث کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مثالیں ایسی روایتوں کی دیتے ہیں جو اصول حدیث کی روشنی میں صحیح نہیں ہیں اور جب حدیثوں کی صحت وعدم صحت کو موضوع بحث بناتے ہیں اور قرآن اور حدیث میں تعارض دکھاتے ہیں تو محدثین اور راویان حدیث کے حق میں نہایت جارحانہ اور غیر مہذب طرز بیان اختیار کرتے ہیں اور مثالیں ایسی قرآنی آیات اور احادیث کی دیتے ہیں جو باہم متعارض اور متصادم نظر آتی ہیں قضا وقدر کے مسئلہ میں شیخ غزالی جبریہ کے مخالف اور قدریہ کے حامی اور مؤید ہیں اور اپنی اس کتاب میں قرآن کی صرف ان آیتوں سے استدلال کیا ہے جو عقیدہ وعمل میں بندوں کے بظاہر مختار ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور ایسی آیتیں نہیں لائے ہیں جو یہ صراحت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بندوں اور ان کے اعمال کا خالق ہے، اسی طرح احادیث سے ایسی حدیثوں کا انتخاب کیا ہے جو ظاہر میں ، حقیقت میں نہیں انسان کے مجبور محض ہونے کا اشارہ دیتی ہیں اور ان حدیثوں کا ذکر نہیں کیا ہے جن سے ان کی کور دبتی ہے یا جو ان کے دعوے کے خلاف ہیں اور وہ رہ رہ کر یہ راگ بھی الاپتے رہتے ہیں کہ عقائد اور دین کے بنیادی امور میں احادیث آحاد ناقابل استدلال ہیں ۔