کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 241
وجائداد بالکل نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ‘‘ میں نے ان کو ناپسند کر دیا، آپ نے پھر فرمایا: اسامہ سے نکاح کرلو ‘‘ اس پر میں نے ان سے نکاح کرلیا ، اور اللہ نے ان کے اندر اتنا خیر رکھ دیا کہ مجھ پر رشک کیا جانے گا۔‘‘ (۱۳۸۰۔ ۳۶۔) امام مسلم یہ حدیث متعدد سندوں سے لائے ہیں جس حدیث کا متن اور ترجمہ اوپر نقل کیا گیا ہے، فاطمہ بنت قیس سے اس کے راوی ابو سلمہ بن عبدالرحمن ہیں جو عظیم المرتبت تابعی اور حافظ حدیث ہونے کے علاوہ جلیل القدر صحابی اور یکے ازعشرہ مبشرہ بالجنہ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ ابو سلمہ سے اس کے راوی عبداللہ بن یزید ہیں جو ثقاہت کے اعلیٰ معیار پر فائز ہونے کے علاوہ امام مالک کے استاد تھے۔ امام مسلم یہ حدیث دوسری جن سندوں سے لائے ہیں ان میں سے کئی سندوں میں ابو سلمہ سے اس کی روایت کرنے والے ابو حازم سلمہ بن دینار، عمران بن ابی انس، یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو شامل ہیں جن کی ثقاھت، حفظ حدیث اور امامت پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے۔ اسی صحیح مسلم میں یہ حدیث حضرت فاطمہ بنت قیس سے مایۂ ناز تابعی امام عامر بن شراحیل ہمدانی شعبی کی روایت سے بھی آئی ہے جس کو شعبی سے سن کر روایت کرنے والے سیار بن وردان، حصین بن عبدالرحمن، مغیرہ بن مقسم، اشعث بن سوار، مجالد بن سعید بن عمیر، اسماعیل بن ابی خالد اور داود بن ابی ھند ہیں جو سب کے سب ائمۂ حدیث اور ثقہ تھے۔ رہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی روایت کرنے والی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو وہ جلیل القدر صحابیہ اور پہلی مہاجرات کے مقدس قافلہ کی ایک فرد تھیں ، اسلام کی راہ میں گراں قدر قربانیاں دینے کے علاوہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت رہیں اور علم و فہم میں ایک خاص مقام پر پہنچیں ، ان کے حافظہ کا یہ حال تھا کہ انہوں نے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے’’جساسہ ‘‘ والی طویل حدیث صرف ایک بار سنی اور ان کے لوح قلب پر نقش ہوگئی، یہ حدیث صحیح مسلم میں بڑے سائز کے مکمل دو صفحات میں آئی ہیں ، چنانچہ امام شعبی قرماتے ہیں : ’’میں نے ضحاک بن قیس کی بہن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور سے منسوب کر کے بیان نہ کیجیے، یعنی آپ کے اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی اور واسطہ حائل نہ ہو توانہوں نے وہ حدیث ازابتدا تا انتہاء سنادی۔[1] کیا جس عظیم خاتو ن کے حافظہ کا یہ حال ہو وہ دو لفظوں ’’لانفقۃ لک ولا سکنی ‘‘ پر مشتمل حدیث کو یاد نہیں رکھ سکتی تھی جو اگر کسی پانچ سال کے بچے یا بچی کو ایک بار سنا دی جائے تو وہ اس کے لوح قلب پر نقش ہوجائے گی۔ [1] صحیح مسلم حدیث نمبر۲۹۴۲۔