کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 219
جھگڑا ہی نہیں تھا اور ان کو روایت کی تصحیح کر کے ’’یسمعون‘‘ کی جگہ ’’یعلمون‘‘ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ غزالی نے یہ کہہ کر ’’جب ان کو علم ہو گیا تو گویا انہوں نے سن لیا۔‘‘ بات الٹ دی، اگر وہ یوں کہتے کہ’’جب انہوں نے سن لیا تو گویا ان کو علم ہو گیا‘‘ تو ان کی بات قدرے صحیح ہوتی، اس لیے کہ اس موقع پر سردارن قریش کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سننا جو مفہوم یا جو تاثیر رکھتا تھا وہ مفہوم اور تاثیر ان کا آپ کی باتوں کو حق و صدق جاننے اور معلوم کرنے میں کہاں تھی؟ وہ تو اپنی زندگی میں بھی آپ کو سچا مانتے تھے اور ان کی اکثریت آپ کی دعوت کو حق سمجھتی تھی اور محض عناد اور حق دشمنی کے نتیجے میں آپ کی تکذیب کر رہی تھی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْن﴾ (الانعام: ۳۳) ’’ہمیں یہ معلوم ہے کہ درحقیقت ان کی باتوں سے تمہیں رنج ہوتا ہے، جبکہ یہ تمہاری تکذیب نہیں کر رہے ہیں ، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں ۔‘‘ شیخ غزالی نے جو یہ فرمایا ہے ہم جس چیز کے خواہش مند ہیں وہ یہ کہ ہم قرآن کے الفاظ و معانی کی طرف حد درجہ توجہ دیں جن سے علمائے حدیث کی بہت بڑی تعداد غفلت اور پردے میں ہے اور ایسے امور میں منہمک ہے جنہوں نے اس کو وحی الٰہی کے پی لینے سے عاجز و قاصر بنا رکھا ہے‘‘ تو یہ ہے ’’بس کی و ہ گانٹھ‘‘ جس کی خاطر انہوں نے یہ کانٹوں بھرا سفر طے کیا ہے۔ قرآن کے الفاظ و معانی کی طرف محدثین سے زیادہ توجہ دینے والے اسلامی تاریخ میں کون پیدا ہوئے ہیں ، ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ و معانی کی بحفاظت امت میں منتقلی اور ترویج کے لیے انہوں نے جو نادر المثال خدمات انجام دی ہیں ، کیا وہ کتاب اللہ کے الفاظ و معانی کی طرف توجہ دینے اور ان کو بازیچۂ اطفال بننے سے محفوظ رکھنے کے سوا کچھ اور تھیں ۔ آپ نے محدثین کے جن اعمال کی تضحیک کرتے ہوئے ان کو وحی الٰہی سے ان کے لذت آشنا ہونے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے یعنی ’’علم الاسناد‘‘ تو اس کی علمی قدر کا اعتراف تو غیر مسلم محققین نے بھی کیا ہے۔ [1] محدثین نے وحی الٰہی کو صرف پینے ہی پر اکتفا نہیں کیا تھا، بلکہ وہ ا س سے سیراب بھی ہو چکے تھے، حدیث نبوی کے درس و تحصیل، غور و مطالعہ اور اس کی نشر و اشاعت کی راہ میں انہوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں وہ اس قدر محیر العقول ہیں کہ بادی النظر میں افسانوی حکایتوں کے مانند لگتے ہیں ۔ غزالی اور ان کے ہم نوا احمد امین، محمود ابوریہ، امین اصلاحی، اسلم جیراج پوری اور اسلم پرویز علم حدیث سے معمولی وابستگی رکھنے والوں کے سامنے بھی بونے نظر آتے ہیں ۔ [1] مصطلح التاریخ، تصنیف عیسائی مؤرخ اسد رستم، ص: ۶۷۔ ۸۳