کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 215
اہل الفقہ واہل الحدیث‘‘ بھری پڑی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حدیث کا جائزہ معتزلہ، مستشرقین اور جدید منکرین حدیث کے نقطۂ نظر سے لیا ہے، اگر کسی صحیح ترین حدیث کا کوئی ایک لفظ یا کوئی ایک تعبیر بھی ان کو ان کے مزاج کے خلاف ملی ہے تو پھر انہوں نے پورے علم حدیث اور تمام محدثین کو نشانے پر رکھ لیا ہے اور ایسے جارحانہ الفاظ سے ان کی تواضع کی ہے کہ الامان والحفیظ اور ان فقہاء کی خوب خوب مدح سرائی کی ہے جنہوں نے معتزلہ کے طرز پر حدیث کی صحت و سقم کو مجرد عقل کی کسوٹی پر رکھ کر جانچا ہے اور جو حدیث ان کے معیار پر پوری بھی اتری ہے اس کو تاویل کے خراد پر چڑھا کر اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ وہ حدیث کا مطالعہ یا تو اپنے کسی سابقہ خیال یا نظریہ یا عقیدے کی تائید کے لیے کرتے ہیں یا حدیث میں کوئی عیب تلاش کرنے کی غرض سے، وہ عربی زبان کے ماہر ہیں ، اسلامی علوم کا وسیع اور گہرا مطالعہ کر چکے ہیں ، قرآن کے مطالب پر وسیع نظر ہے، جدید اسلامی اور غیر اسلامی فلسفہ ان کا موضوع بحث رہا ہے اور حدیث کا سطحی علم رکھنے کے باوجود حدیث اور قرآن کے درمیان بظاہر نظر آنے والے تعارض کو دور کرنے پر قدرت رکھتے تھے، مگر افسوس ہے کہ انہوں نے اس ظاہری اور غیر حقیقی تعارض کو ’’ہوا‘‘ بنا کر قرآن و حدیث کے درمیان گہری اور وسیع خلیج دکھانے کی سعی مذموم کی ہے۔ اہل قلیب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطاب کی حدیث کو بہانہ بنا کر اور اس کے بارے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اجتہادی طرز عمل کو بنیاد بنا کر انہوں نے جس طرح اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے اسے پڑھیے اور سر دھنئے، تحریر فرماتے ہیں : ’’ام المؤمنین عائشہ فقیہ، محدثہ اور ادیبہ تھیں ، وہ نصوص قرآنی کے پاس جم کر کھڑی ہو جاتی تھیں اور ان کی معمولی خلاف ورزی کو بھی مسترد کر دیتی تھیں ۔ انہوں نے جب یہ سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنویں کے کنارے جس میں مشرکین کو دفن کر دیا گیا تھا، کھڑے ہو کر ان کو ان کے ناموں سے پکارا ہے تو اس پر انہوں نے جو تبصرہ کیا وہ قابل غور وتدبر ہے۔ اس مسئلہ میں جو روایت منقول ہے وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلے اور آپ کے پیچھے آپ کے اصحاب بھی ہو لیے، یہاں تک کہ آپ کنویں کے کنارے کھڑے ہو گئے اور ان کو ان کے اور ان کے باپوں کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا، کیا تمہارے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ہم نے تو اسے سچ پا لیا، کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا تم نے بھی اسے سچ پا لیا؟ عمر نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسے جسموں سے کیا کہہ رہے ہیں جن میں جان نہیں ہے؟ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو میں کہہ رہا ہوں تم اسے ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو۔‘‘ عائشہ نے اس عبارت: ((ما أنتم بأسمع لما أقول منھم)) کا آیت شریفہ: ﴿وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ﴾ سے استدلال کرتے ہوئے انکار کر دیا اور ((ما أنتم بأعلم لما أقول منھم)) سے روایت کی تصحیح