کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 150
جائے گی، وہ سزا اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گی۔ مولانا نے سوال اٹھایا ہے کہ قرآن مجید میں حقوق العباد میں خیانت اور دوسرے گناہوں پر توبہ کا ایک مخصوص طریقۂ کار بتایا گیا ہے۔ یہ روایت اس طریقۂ کار کو اختیار کیے بغیر گناہوں کا کفارہ ہونے کی بشارت دے رہی ہے، مولانا کے نزدیک دنیا میں جرم کی سزا ملنے سے صرف قانونی تقاضا پورا ہوتا ہے، آخرت میں اللہ کا معاملہ انہی شرائط پر ہوگا جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں ، لہٰذا باب نقل کرنے میں راوی سے کوتاہی ہوئی ہے۔‘‘[1] اصلاحی صاحب نے جو بلند بانگ دعوے کیے ہیں ان کی حقیقت میں بعد میں بیان کروں گا پہلے حدیث کا متن اور اس کا ترجمہ سامنے رکھ دینا چاہتا ہوں ، تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے: ((حدثنا ابوالیمان، قال: اخبرنا شعیب، عن الزہری، قال: اخبرنی أبو إدریس عائذ اللّٰه بن عبد اللّٰه أن عبادۃ بن الصامت رضی اللّٰه عنہ وکان شھد بدراً، وھو أحد النقباء لیلۃ العقبۃ: أن رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم قال، وحولہ عصابۃ من أصحابہ: با یعونی علی أن لا تشرکوا باللّٰہ شیئاً ولا تسرقوا، ولا تزنوا، ولا تقتلوا أولادکم، ولا تأتو ببھتان تفترونہ بین أیدیکم وأرجلکم، ولا تعصوا فی معروف، فمن وفی منکم فأجرہ علی اللّٰہ ومن أصاب من ذلک شیئاً فعوقب فی الدنیا فھو کفارۃ لہ، ومن أصاب من ذلک شیئاً، ثم سترہ اللّٰہ، فھو الی اللّٰہ، ان شاء اللّٰہ عفا عنہ وان شاء عاقبہ‘‘ بایعناہ علی ذلک)) ’’ہم سے ابو یمان نے بیان کیا، کہا: ہمیں شعیب نے، زہری سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابو ادریس عائذ اللہ بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے، جو معرکۂ بدر میں شریک ہوئے اور جو عقبہ کی رات کے نقیبوں میں سے ایک تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت کی موجودگی میں فرمایا: ’’تم لوگ اس بات پر مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہں بناؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور نہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان تراشی کرو گے اور نہ کسی معروف کام میں نافرمانی کرو گے، تو تم میں سے جس نے یہ عہد نبھایا اس کا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی کا ارتکاب کر ڈالا اور دنیا میں اسے اس کی سزا دے دی گئی، تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جس نے ان میں سے کسی کا ارتکاب کیا، پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرما دی، تو اس کا [1] علوم القرآن، مولانا امین احسن اصلاحی ص :۲۶۶۔