کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 142
انھوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہوچکے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم سے ان لوگوں کو نکال لو جن کے دلوں میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔ اس طرح وہ جہنم سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ سیاہ ہوچکے ہوں گے، اور ان کو نہر حیات، یا حیات میں ڈال دیا جائے گا۔ مالک کو یہ شک ہے کہ ان کے شیخ عمرو بن یحییٰ مازنی نے نہر الحیاۃ کہا تھا یا الحیاہ۔ اس وقت وہ اس طرح اگ پڑیں گے جس طرح سیلاب کے کنارے دانہ اگ پڑتا ہے، کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ زرد اور لپٹا ہوا نکلتا ہے۔‘‘[1] امام بخاری نے اس حدیث کے نیچے لکھا ہے کہ ’’وہیب بن خالد باہلی نے یہ حدیث عمرو بن یحییٰ مازنی سے روایت کی ہے اور صرف ’’الحیاۃ‘‘ کہا ہے اور ’’حبۃ من خردل من ایمان‘‘ کے بجائے ’’حبۃ من خردل من خیر‘‘ کہا ہے۔‘‘ امام بخاری یہ حدیث ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے دوسری دو سندوں سے بھی لائے ہیں ، جس کے الفاظ میں معمولی سا اختلاف ہے، نمبر ۶۵۶۰ اور ۷۴۳۹، جبکہ امام مسلم نے اس حدیث کو کافی طویل شکل میں نقل کیا ہے، جس میں مذکورہ فقرے کے علاوہ اور بھی متعدد فقرے ہیں ۔ حدیث کے متن میں تفصیل و اختصار کا یہ اختلاف اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث متعدد راویوں نے مختلف اوقات میں سنی ہے اور موقع و محل کے اعتبار سے انھوں نے کبھی تو اس کو نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے اور گنہگار اہل ایمان کے جہنم سے نکالے جانے کے علاوہ احوال قیامت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اور ارشادات بھی نقل کیے ہیں اور کہیں صرف مذکورہ واقعہ بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اس طرح کی مثالیں خود قرآن پاک میں بھی موجود ہیں ، مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ کہیں بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے اور کہیں مختصر اور الفاظ اور اسلوب بیان میں بھی اختلاف ہے۔ امین احسن اصلاحی نے مذکورہ حدیث کی جو ترجمانی کی ہے اس میں انھوں نے چار جگہ جہنم سے نکالے جانے والے گنہگار مومنین کے لیے ’’مجرمین‘‘ اور ’’مجرم‘‘ کی تعبیر اختیار کی ہے، جبکہ جہاں یہ لفظ واحد یا جمع کے صیغے میں مذکورہ حدیث میں ایک بار بھی نہیں آیا ہے وہیں قرآن پاک میں بھی کہیں ایک جگہ بھی اللہ تعالیٰ نے کسی گنہگار مؤمن کو ’’مجرم‘‘ نہیں کہا ہے قرآن میں یہ لفظ واحد کے صیغے میں دو بار اور جمع کے صیغے میں ۴۹ بار آیا ہے اور ہر جگہ ’’مجرمین‘‘ سے نہایت ہٹ دھرم مشرکین و کفار مراد لیے گئے ہیں ۔ اصلاحی صاحب کی پوری زندگی قرآن کے درس و مطالعہ میں گزری تھی، اور ان کو یہ معلوم تھا کہ قرآن کی رو سے ’’مجرم‘‘ کسی گنہگار مومن کا مترادف نہیں ہے، لیکن محض اپنے اعتزالی عقیدے کی رو میں یہ غلط بیانی اور علمی خیانت کر ڈالی۔ [1] بخاری: ۲۲، ۶۵۶۰، ۷۴۳۹، مسلم:۱۸۳۔