کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 135
نزول وحی کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت کے بیان کے لیے دشوار، بھاری پن، وزنی اور مشقت وغیرہ جسے الفاظ موزوں ہیں اردو میں ’’تکلیف‘‘ درد و الم کے لیے بولا جاتا ہے۔ اصلاحی صاحب کو ’’شدتِ تکلیف کے احساس‘‘ کی تعبیر پر اصرار ہے، تھوڑی دیر کے لیے میں اس سے صرف نظر کرلیتا ہوں اور عرض گزار ہوں کہ کسی بھی شخص نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ نزول وحی کے وقت جس پُرمشقت تجربات سے آپ گزرتے تھے ان میں دوسرے لوگ بھی شامل یا شریک ہوتے تھے، بلکہ جن لوگوں نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں یہ کیفیت بیان کی ہے ان سب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داخلی کیفیت کے ظاہری آثار یا مظاہر بیان کیے ہیں ، مثلاً شدید سردی میں پیشانی مبارک سے پسینہ بہنے لگنا، چہرۂ انور کا رنگ بدل جانا، اونٹنی کا اپنا سینہ زمین سے لگا دینا وغیرہ اور خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول وحی کو اپنے اوپر سخت قررا دینا، صحابہ کرام کے ان مشاہدات سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ نزول وحی کے موقع پر جبریل علیہ السلام کے ساتھ ’’وحی‘‘ کی قراء ت کے وقت زبان اور ہونٹوں کو حرکت دینے کا محرک بھی حدیث کی روشنی میں معلوم ہوگیا اس کے بعد اس کا محرک صرف جذبہ شوق کو قرار دینا یا یاد کرلینے کے جذبے پر اس کو مقدم قرار دینا ہٹ دھرمی کے سوا کیا ہے، جبکہ یاد کرلینے کی خواہش اور ارادے اور جذبہ شوق میں کوئی منافات اور ٹکراؤ بھی نہیں ہے، مزید یہ کہ یاد کرلینے کا ذکر تو احادیث میں آیا ہے۔ (ترمذی اور نسائی: ۳۳۲۹) لیکن جذبۂ شوق خانہ ساز ہے۔ صحیحین کی اس حدیث کی کسی بھی سند میں امام زہری شامل نہیں ہیں ، محض وحی کی مناسبت سے اس پر اصلاحی کے اعتراض کا جواب دینے کے لیے اس سلسلۂ احادیث میں اس کو شامل کیا گیا ہے جن کی سندوں میں زہری شامل ہیں ۔ قصہ موسیٰ و خضر علیہما السلام : مولانا اصلاحی صاحب صحیح بخاری کی کتاب العلم کے باب ((ما ذکر فی ذہاب موسی علیہ السلام فی البحر إلی الخضر وقولہ تعالیٰ: ھل اتبعک علی أن تعلمنی مما علمت رشدا۔)) پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس سفر کو جس میں وہ حضرت خضر علیہ السلام کی تلاش میں نکلے سمندری سفر بتایا گیا ہے۔ قرآن میں حضرت موسیٰ کے ساتھی کے پاس مچھلی کے تڑپ کر پانی میں چلے جانے کا ذکر ہے، پھر جب دونوں ساتھی سفر کرکے آگے نکل گئے اور بھوک محسوس ہونے پر مچھلی کی طلب ہوئی اور ساتھی نے اس کے پانی میں چلے جانے کا ذکر کیا تو موسیٰ اپنے نقوش قدم تلاش کرتے ہوئے واپس مڑے۔ یہ دونوں باتیں صرف خشکی پر سفر کرتے ہوئے ممکن ہوسکتی ہیں ، لہٰذا حدیث کا بیان قرآن سے متعارض ہے۔ مزید برآں مولانا فرماتے ہیں کہ اگر اس روایت کا تاثر یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ دعویٰ غلط تھا کہ روئے زمین پر ان