کتاب: حدیث کا شرعی مقام جلد اول - صفحہ 104
مقدس سے ہے۔ رہا ابوسفیان اور ہرقل کے مابین ہونے والا مکالمہ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مکتوب گرامی کے پس منظر میں ہوا تھا جس کو آپ نے ہرقل کے پاس بھیجا تھا اور جس میں آپ نے اس کو ایمان لانے کی دعوت دی تھی اس طرح صحیح بخاری کی یہ روایت اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کا ایک اہم حصہ بن جاتی ہے اور یہ بتانا تحصیل حاصل ہے کہ جزیرۂ عرب اور اس سے باہر کے حکمرانوں کو دعوتِ اسلام دینا آپ کے فرض منصبی کا بنیادی نقطہ اور نبوتِ محمدی کی عالم گیریت کا ترجمان تھا۔ اصلاحی صاحب نے ابن ناطور کے واقعہ کو امام زہری کی اختراع قرار دے کر اپنی سطح بینی کا ثبوت دیا ہے، یہ درست ہے کہ یہ واقعہ ابوسفیان اور ہرقل کے درمیان ہونے والے مکالمہ کا ایک حصہ نہیں ہے، لیکن اس سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ واقعہ ترتیب زمنی کے اعتبار سے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی روایت پر مقدم ہے اور صحیح بخاری میں ابوسفیان اور ہرقل کے درمیان ہونے والے مکالمہ کے بعد اس کا ذکر اگرچہ ادراج ہے، لیکن امام زہری کی اختراع نہیں ہے، بلکہ ابن ناطور کا بیان کردہ ہے جسے اس کی زبان سے اس کے مسلمان ہوجانے کے بعد زہری نے دمشق میں خود سن کر روایت کیا ہے، جیسا کہ سیرت ابن اسحاق میں صراحت ہے اور حافظ ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں زہری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: میں عبد الملک بن مروان کے زمانے میں دمشق میں اس سے ملا ہوں ۔‘‘[1] ابن ناطور ایلیاء میں ہرقل کا امیر اور مذہبی پیشوا Bishop تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی وصول کرنے سے پہلے ہرقل ایلیاء گیا تھا، جہاں کی ایک صبح کی اس کی نفسیاتی حالت کو ابن ناطور نے زہری سے بیان کیا ہے جو درحقیقت اجرام فلکی اور ستاروں کی گردش میں غیر معمول تبدیلیوں کا نتیجہ تھی، اور بقول ابن ناطور ہرقل علم نجوم سے واقف تھا۔ امام زہری کے ابن ناطور کی زبانی بیان کردہ ہرقل کی مذکورہ حالت کی روایت اور صحیح بخاری میں بسند صحیح اس کے نقل میں کاہنوں اور اہل تنجیم کی غیب دانی کے دعوؤں کی تائید کہاں سے نکل آئی۔ آخر بصورت نبوتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام اور نزول قرآن جس ’’عظیم واقعہ‘‘ کے ظہور کے وقت نظام کائنات میں جو غیر معمولی تبدیلیاں ہوئی تھیں ان کی ایک جھلک جنوں کی زبانی قرآن پاک کی سورۃ الجن میں بیان نہیں ہوئی ہے اور کیا قرآن و حدیث کے مطابق کاہن اور نجومی لوگوں کو غیب کی جو جھوٹی خبریں دیتے تھے ان کا سارا مدار جنوں اور شیطانوں کی خبر پر نہیں ہوتا تھا، تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست ہے کہ قرآن و حدیث سے کہانت اور تبخیم کی تائید ہوتی ہے؟!! (۲) ارسال: اصلاحی صاحب نے امام زہری کو ارسال کا بھی ماہر قرار دیا ہے ان کے اس الزام کی حقیقت بیان کرنے سے قبل [1] فتح الباری، ج:۱، ص :۲۷۱۔