کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 634
مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک نماز کا ثواب صحیح بخاری و مسلم کی ایک حدیث کی رو سے عام مساجد میں پڑھی گئی، ایک ہزار نماز سے زیادہ ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’میری اس مسجد میں ایک نماز کا ثواب مسجد حرام کو چھوڑ کر دوسری تمام مساجد سے ایک ہزار گُنا سے بھی زیادہ ہے۔‘‘[1] 2. حجرہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم : مدینہ طیبہ ہی وہ شہر ہے جہاں سرورِ کائنات سید المرسلین، امام الانبیاء، امامِ اعظم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ طیبہ ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مقدس ہے، جہاں مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ’’تحیۃ المسجد‘‘ پڑھ لینے کے بعد بہ صد ہزار جان درود و سلام پڑھنا چاہیے۔ 3. روضہ شریفہ: مدینہ طیبہ ہی وہ شہر ہے، جس میں ’’روضۂ شریفہ‘‘ ہے، جس کے بارے میں صحیح بخاری و مسلم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ )) [2] ’’میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی قطعہ ارضی جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مقام کو ’’روضہ‘‘ کا نام دیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور منبر کے مابین والی جگہ ہے، جس کے ستونوں پر سفید سنگ مر مر لگا کر نمایاں اور ممتاز کیا گیاہے، لیکن عوام الناس تو صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مقدس پرمشتمل حجرہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو روضہ شریفہ سمجھتے ہیں، جبکہ وہ حجرہ شریفہ ہے جو ام المومنین صدیقہ کائنات حضرت عائشہ، طیبہ و طاہرہ بنت صدیق رضی اللہ عنہما کا گھر ہوا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مقدس اسی جگہ ہے۔ مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہونے کے آداب: جب مدینہ طیبہ پہنچیں تو جہاں قیام کا ارادہ ہو، وہاں اپنا سامان وغیرہ رکھیں۔ نہا دھوکر اور [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث: (۱۱۹۰) صحیح مسلم (۹/ ۱۶۳، ۱۶۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۱۹۶، ۱۸۸۸) صحیح مسلم (۹/ ۱۶۲)