کتاب: گلدستہ دروس خواتین - صفحہ 631
اور ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ ہی میں گزاریں۔‘‘[1] منیٰ میں قیام کا عرصہ ذکر و عبادت میں گزاریں، کیونکہ سورت بقرہ (آیت: ۲۰۳) میں ارشادِ الٰہی ہے: { وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ} ’’اِن گنتی کے دنوں (ایامِ منیٰ) کو ذِکر الٰہی میں بسر کریں۔‘‘ منیٰ میں قیام کے دوران میں نمازِ ظہر و عصر اور عشا قصر کرکے (دوگانہ) پڑھنا مسنون ہے۔ ایامِ تشریق میں رمیِ جمار کا طریقہ: جو شخص یومِ نحر کے علاوہ تین دن ایامِ تشریق میں جمرات پر رمی کرلے گا، اس کی کل ستر (۷۰) کنکریاں بنیں گی۔ ہر جمرے پر سات سات کنکریوں سے رمی کرنا ضروری ہے۔ صحیح بخاری و سنن بیہقی اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ اولیٰ پر رمی کرتے (جو مسجدِ خیف کے قریب ہے) تو اس پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہتے، پھر تھوڑا سا بائیں جانب ہوجاتے اور قبلہ رو کھڑے ہو کر طویل عرے تک ہاتھوں کو اُٹھائے دعا فرماتے۔ پھر دوسرے (جمرہ وسطیٰ) پر بھی اسی طرح رمی اور دعا کرتے، پھر تیسرے جمرے پر آتے جو عقبہ کے پاس ہے (اور جمرہ عقبہ یا کبریٰ کہلاتا ہے) اس پر بھی سات ہی کنکریوں سے رمی فرماتے اور ہر کنکری کے ساتھ ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ بھی کہتے مگر: (( وَلَا یَقِفُ عِنْدَھَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ )) [2] ’’وہاں (دعا کے لیے) کھڑے نہیں ہوتے تھے، بلکہ چلے جاتے تھے۔‘‘ ایسے ہی یہی طریقہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں بھی ہے۔ طوافِ ودَاع: جب ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳/ذوالحج) کی رَمی مکمل ہو جائے تو منیٰ سے مکہ مکرمہ آجائیں۔ اس کے ساتھ ہی تمام مناسکِ حج مکمل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف روانگی ہوتی ہے، لہٰذا جاتے وقت ’’طوافِ وداع‘‘ ضرور کر لیں، کیونکہ یہ بھی واجب ہے۔[3] [1] مسند أحمد (۶- ۹۰) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۹۷۳) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۷۵۱، ۱۷۵۳) [3] شرح الفتح الرباني (۱۲- ۲۳۶)